خطابات نور — Page 349
آئے تو معذرت کے ساتھ حضرت سارہ کو واپس دیا اور اپنی بیٹی ہاجرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دے دی۔اب سارہ اور ہاجرہ اکٹھی ہوگئیں۔واقعات کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سارہ نے پہلے کبھی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کوئی عہد لیا تھا کہ جو میں کہوں گی اس کو پورا کرنا پڑے گا۔(جیسا کہ رام چندر جی کی سوتیلی ماں نے اپنے خاوند سے عہد لیا تھا کہ جو میں کہوں گی اس کو پورا کرنا پڑے گا۔جب راجہ رام چندر جی کی تخت نشینی کا وقت آیا تو اس نے معاہدہ کو پیش کیا اور کہا کہ میرے کہنے کے موافق رام چندرجی کو چودہ برس کا بن باس دیا جائے) اب سارہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ ہاجرہ کو کسی دوردراز جگہ میں چھوڑ آئو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بہت سمجھایا مگر سارہ نے نہ مانا اور اپنی بات پر اصرار کیا۔پس حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی کہ اے خدا اب میں کیا کروں؟ خدا تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ اپنا وعدہ پورا کرو۔پس آپ حضرت ہاجرہ کو لے کر دوردراز ملک میں چلے گئے اور کسی پہاڑی پر چھوڑ آئے۔اب حضرت ہاجرہ کی گود میں ایک بچہ تھا۔جس کا نام اسمٰعیلؑ تھا اور وہ ابھی شیر خوار تھا۔ایک مشکیزہ پانی کا ان کو دے آئے تھے۔خدا تعالیٰ نے اس مقام اور اس زمین کا نقشہ کو قرآن کریم میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔(ابراہیم :۳۸) جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو چھوڑ کر واپس آنے لگے تو حضرت ہاجرہ نے دریافت کیا کہ مجھ کو یہاں کیوں چھوڑ چلے ہو اور کس کے حکم سے؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا کہ میں تم کو یہاں خدا تعالیٰ کے حکم سے چھوڑ چلا ہوں۔یہ سن کر حضرت ہاجرہ نے جواب دیا کہ بس جائو۔اب مجھ کو کسی کی ضرورت نہیں۔مشکیزہ کا پانی تو جلد ختم ہوگیا۔بچہ رونے لگا۔حضرت ہاجرہ بہت بے چین ہوگئیں۔اسی عالم پریشانی میں مروہ پرگئیں اور پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ پر سات مرتبہ انہوں نے چکر لگائے مگر پانی نہ ملا۔آخر واپس بچے کو دیکھنے آئیں کہ ایسا نہ ہو بچہ بے ہوش ہوجائے۔پھر چلا کر کہنے لگیں کہ کوئی میری آواز کو سنتا ہے؟ بچہ کے قریب آکر دیکھا تو اس کو اس قدر بے تاب پایا کہ دیکھ نہ سکیں اور دور ہٹ گئیں۔پھر قریب آئیں تو ایک چشمہ دیکھا جو حضرت اسمٰعیلؑ کی ایڑیوں کی ضرب کی جگہ سے پھوٹ نکلا تھا۔اس کے اردگرد کناروں پر اینٹیں لگادیں تاکہ پانی بہہ نہ جائے۔(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر