خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 660

خطابات نور — Page 311

صرف دودھ پینے کا خیال تھا جو ایک قسم کی خود غرضی تھی جس میں دوسرا شریک نہیں۔ننگ دھڑنگ موجود تھے۔پہلے پہل کھانے پینے کا علم ہوا اور اس سے معرفت بلند نہ تھی۔یہ بہیمیت تھی۔اس سے ذرا ترقی ہوئی تو غضب پیدا ہوا۔ماں نے دودھ دینے میں ذرا دیر کی۔لگے چلّانے اور چیخنے۔اس کے بعد شہوت آتی ہے۔اٹھارہ سال کی عمر میں اخلاق پہنچاوے تو اخلاق فاضلہ کی راہ پیدا ہووے تو ہووے۔بحالیکہ دشمن پہلے سے موجود ہے۔کیسا مقابلہ ہے؟ جلق سے نفرت: عمر کے اس حصہ میں بڑے بڑے مشکلات پیش آتے ہیں۔میں تو خدا تعالیٰ کے بڑے ہی فضل اپنے ساتھ پاتا ہوں۔میرے سامنے ایک مرتبہ ایک طالب علمنے جلق لگایا تو مجھے متلی ہوگئی۔اس کے بعد اس کے ساتھ میں نے روٹی کھانا بھی چھوڑ دیا اور اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اس بلا سے جو عام ہے مجھے نفرت دلائی۔ایسی حالت میں انسان ملکیت کے مقام تو سمجھتا ہے۔کیا ہے؟ میں بہت کم شعر پڑھتا ہوں۔یا قریباً نہیں پڑھتا۔مگر یہاں ایک شعر یاد آگیا۔فلا تحسبن ھنداًلھا الغدر وجدھا سبجیۃ نفس کل غانیۃ ھند‘ ہر ایک انسان غور کرے کہ کیسے مشکلات میں پھنسا ہوا ہے۔اس کا نفس اس کا مطلوب اور محبوب ہے۔پھر دوسرے معشوقوں کی بے وفائی کا کیا ذکر؟ فارسی اردو کے تو دیوان معشوقوں کی بے وفائی میں بھرے پڑے ہیں۔مگر کاش! پڑھنے والے اپنے نفس کی غداری پر ہی غور کرتے تا انہیں معلوم ہوتا کہ وہ کس راہ پر چل رہے ہیں۔غرض مومن حمد الٰہی کرتے ہیں۔توبہ کرنے والے ہوتے ہیں۔پھر لکھا ہے۔عابدون۔عبادت کیا ہے؟ عبادت کہتے ہیں۔تعظیم لامر اللّٰہ کو‘ جس میں ریاؔ اور سمعۃ نہ ہو۔درد دل کا اظہار ہو۔نماز کیسی عبادت ہے؟ ہر عبادت کے دوران میں دوسری عبادت بھی ہوسکتی ہے۔روزہ میں نماز بھی پڑھ سکتے ہیں اور زکوٰۃ بھی دے سکتے ہیں۔مگر نماز ایک ایسی عبادت ہے کہ اس کی حالت میں دوسری عبادت نہیں ہوسکتی۔نماز مومن کا معراج ہے۔یہ عبادت کی راہ ہے۔