خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 289 of 660

خطابات نور — Page 289

دے کر اپنے دوستوں سے اس قفس سے رہائی کی تدبیر پوچھی تھی اور انہوں نے جواب دیا ہے کہ جب تک موت اپنے پر وارد نہ ہو نجات نہیں ملتی۔پس یہ میری رہائی اور اس کا علاج اور گُر تھا۔سنو! یہ نکتہ میں نے تمہیں سمجھا دیا ہے کہ نفس کے پنجہ سے نجات چاہتے ہو تو موت اختیار کرو۔یہ طوطی کا قصہ ہنسی نہیں مثنوی میں موجود ہے جس کو اہل اللہ پڑھتے ہیں۔غرض التحیات میں جب مجھے اس قصہ کی طرف توجہ ہوئی تو میں نے تمام انبیاء اور رسل و اولیاء ملائکہ کو مخاطب کرکے کہا اے طوطیان قدس تم پر سلام مجھے بھی نجات کی کوئی راہ بتا دو۔اس وقت مجھ پر ایسا اثر ہوا کہ میں اس کو ضبط نہ کرسکا۔طوطی کا استعارہ احادیث سے ثابت ہے کہ شہدا سبز پرندوں کے جوف میں عرش کے نیچے لٹکتے ہیں۔امامت اور اخوت کی روح کیسے پیدا ہوئی: اس پر ایک زبردست تحریک میرے دل میں پیدا ہوئی جس کا نتیجہ وہ کارڈ تھے جو میں نے چھپوا کر بعض دوستوں کو بھیجے اور بھیجنے سے پہلے میں نے وہ کارڈ ان کو (حضرت صاحبزادہ بشیر الدین محمود احمد صاحب سلمہ ربہ‘ کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ جو پاس ہی کرسی پر بیٹھے تھے) دیا کہ حضرت صاحب کو دکھا لو یہ اس تحریک میں شریک تھے اور انہوں نے دکھایا اور حضرت نے اسے بہت ہی پسند فرمایا۔میرا ارادہ یہ تھا کہ جب چودہ سو (۱۴۰۰)آدمیوں کی ایک جماعت ہوجاوے گی تو میں حضرت کے حضور پیش کروں گا کہ ہم پر وہ فیضان نازل ہو جو اجتماع پر موقوف ہے۔یہ ایک تحریک تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تھی۔میں اس کے نتائج سے محض بے خبر تھا مگر مولیٰ کریم میرے دل کی حالت کو دیکھتا تھا۔ابھی وہ موقع مجھے ملا نہیں تھا کہ خدا تعالیٰ نے یہ صورت پیدا کردی جو تم دیکھتے ہو۔یہ خدا تعالیٰ کے وہ عجائبات ہیں وہ جن کو انسان نہیں سمجھ سکتا۔غرض میں چاہتا تھا کہ چودہ سو احباب ہوں یہاںکئی چودہ سو مل گئے۔بغیر کسی کوشش اور محنت کے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے، دیتا ہے۔حضرت مولوی نور الدین بحیثیت امیرالمومنین: اب میں تم میں اس حیثیت سے کھڑا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے