خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 267 of 660

خطابات نور — Page 267

منسوخ کردیں کسی بات کو یا بھلادیں تو لاتے ہیں بہتر اس سے یا اس کی مثل کیا تو نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے۔اس تعلیم پر قادری ہونے کے مدعی اور السید عبدالقادر جیلانی کے معتقد توجہ فرماویں۔اگر حضرت مرزا صاحب کا کوئی ارادہ اور خواہش تمھارے لئے ٹھوکر کا باعث ہو تو اسی مقالہ میں غور کریں حضرت جیلانی فرماتے ہیں لما کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم منزوع الھویٰ والارادۃ سوی المواضع التی ذکرھا اللّٰہ عزوجل فی القرآن۔یہاں سوی المواضع کے مقام میں مرتبہ خاتم النبیین و رسول ربّ العالمین صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم اور مرتبہ غلام احمد کا مدنظررکھ لیں تو انشاء اللہ تعالیٰ… ان کا بھلا ہوگا۔اب میں اس اپنی پہلی تحریر میں مسئلہ وفات مسیح کو ان اشعار پر جو ایک صوفی اور ان کے متبعین کے لئے انشاء اللہ مفید ہوں گے لکھتا ہوں۔یہ نظم حضرت کی ہے اور ایک احمدی خلیفہ رشید الدین نے ۲۵؍مئی کو لکھی اور ۲۶ کو بمقام قادیان دس بجے خوش قلم لکھوائی۔حالانکہ واقع وفات سوا دس بجے کو ہوا۔آنانکہ گشت کوچۂ جاناںمقام شان ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق اے مردہ دل مکوش پے ہجو اہلِ دل مثبت ست برجریدۂ عالم دوامِ شان میرد کسیکہ نیست مرامش مرامِ شان جہل و قصور تست نفہمی کلامِ شان ایک لڑکی کے متعلق کہ اس سے آپ کی شادی ہوگی اور ایک عورت سے زلازل کے پہلے ایک لڑکا ہوگا اور پانچویں اولاد کی بشارت پر جو اعتراض ہیں۔ان کا للّٰہ و باللّٰہ قرآنی جواب یہ ہے کہ کتب سماویہ کا طرز ہے کہ مخاطب سے گاہے خود مخاطب ہی مراد ہوتا ہے اور گاہے وہ اور اس کا جانشین اور اس کی اولاد بلکہ اس کا مثیل مراد ہوتا ہے مثلاً اللہ تعالیٰ زمانہ نبوی میں فرماتا ہے  ( البقرۃ :۴۴) اس حکم الٰہی میں خود مخاطب اور ان کے مابعد کے لوگ شامل ہیں جو ان مخاطبین کی مثل ہیں اور (المائدۃ :۲۱) میں مخاطب تو مراد ہی نہیں مگر اور ان کے پس ماندوں میں بھی بعض ہی مراد ہیں کیونکہ بنی اسرائیل اس خطاب کے وقت بادشاہ نہ تھے بلکہ اس خطاب کے بعد چالیس برس جنگل میں بھٹکتے پھرے ہلاک ہوئے اور اس نسل میں سوائے دو کے کسی کا پتا نہیں لگتا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے بنی اسرائیل کو ارشاد ہوتا ہے حالانکہ وہ مرتکب نہیں۔