خطابات نور — Page 266
بیان سے میری تحریر بالاکو صفائی سے تائید ملتی ہے۔جس کا میں نے نسخ کے معنے میں ذکر کیا ہے۔حضرت السید الجیلی مقالہ ۵۶ میں عبودیت کا ذکر فرماتے ہوئے اور اس کے انعامات کی تفصیل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔فیختار العبدحٍ اللّٰہ عزوجل ویرید بارادتہ عزوجل ویدبربتد بیرہ ویشاء بمشیتہ ویرضٰی برضاہ ویمتثل امرہ دون غیرہ ولا یری لغیرہ عزوجل وجودًا ولا فعلا فحٍ یجوز ان یعدہ اللّٰہ بوعد ثم لایظھر للعبد وفائً ا بذٰلک ولا یبلغہ ماقد توھمہ من ذٰلک لان الغیریۃ قد زالت بزوال الھوٰی والارادۃ وطلب الحظوظ وصار فی نفسہ فعل اللّٰہ عزوجل وارادتہ ومرادًا لہ عزوجل فلا یضاف الیہ وعد ولاخلف لان ھٰذہ صفۃ من لہ ھوی وارادۃ فیصیر الوعد حٍ فی حقہ مع اللہ کرجلٍ عزم علی فعل شیٔ فی نفسہ ونواہ ثم صرفہ الٰی غیرہ کالناسخ والمنسوخ فیما اوحی اللّٰہ عزوجل الٰی نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔ (البقرۃ :۱۰۷) ترجمہ: کامل عبودیت کے بعد بندہ اللہ تعالیٰ کو پسند کرلیتا ہے اور اللہ ہی کے ارادہ و تدبیر و مشیت و رضا کے ساتھ اپنے ارادہ و تدبیر و مشیت و رضا کو وابستہ کرلیتا ہے اور اسی کا حکم مانتا ہے نہ غیر کا اور اللہ کے سوا کسی کا حقیقی وجود و فعل نہیں مانتا۔پس ایسے وقت میں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بندہ سے کوئی وعدہ کرے اور ظاہر نہ کرے بندہ کے لئے اس وعدہ کی وفا کو اور پہنچاتا ہی نہیں اس بات پر جس کا اس بندہ کو خیال تھا کیونکہ اس بندے اور اس کے معبود میں غیریت اس لئے دور ہوگئی کہ بندے کی خواہش دور ہوگئی اور اس کا ارادہ اور طلب حظوظ بھی تو اس لئے اس بندے کے افعال افعال الٰہیہ ہوجاتے ہیں تو وہ وعدہ اور اس کے خلاف کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہوگیا۔کیونکہ وعدہ اور اس کا خلاف تو غیرت سے وابستہ تھا پس اس وقت عبودیت میں جو وعدے اس بندے سے ہوئے ایسے ہوجاتے ہیں کہ گویا کسی بندہ نے آپ ہی ارادہ کیا اور پھر اس ارادہ اور اس نیت کو کسی دوسرے کام میں لگا دیا اور یہ معاملہ ناسخ و منسوخ کی طرح ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب… میں جو ہمارے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی فرمائی۔اس میں فرمایا ہے کہ اگر ہم