خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 254 of 660

خطابات نور — Page 254

(الفاتحۃ :۲ تا۴) ہمارے ملک میں یا ہمارے ملک میں سے سید محمد جونپوری، علی متقی شیخ، شیخ عبدالحق محدث دہلوی، الشیخ المجدد الالف الثانی، شاہ ولی اللہ اور سید احمدبریلوی یہ لوگ ہیں جنہوں نے دعاوی مجددیت کے کئے اور لوگوں نے بھی ان کو مجدد مانا۔ان کے کارنامے بحمداللہ ہم سے مخفی نہیں۔مگر جو کچھ اس شخص مغفور نے کرکے دکھایا اس کا مقابلہ سوائے عقلمندوں کے کون کرے؟ اللہ تعالیٰ کو توفیق ہے کہ آنکھیں کھول دے کیونکہ ۱۔اول آپ نے تمام دنیا کو دعوت کی اور انگریزی و اردو میں بیس ہزار اشتہار سے اعلان کیا کہ الاسلام حق۔۲۔دہریہ کے واسطے قرآنی صدہا پیشین گوئیوں اور اپنے متعلق ایک بڑا مجموعہ بشارات کا اور قبل از وقت اخبار کا پیش کرکے معرفت الٰہیہ کا دروازہ کھول دیا ہے گو ہمارے مخالف خدا کے ماننے والے اس راہ میں مشکلات ڈالتے رہے اور ڈالتے ہیں کہ بعض بشارات پوری نہیں ہوئیں۔مگر عقلمند جانتے ہیں کہ مفید و راحت بخش تدابیر اپنی کثرت کے لحاظ سے مفید یقین کی جاتی ہیں نہ اس لئے کہ وہ کبھی مستثنیات بھی رکھتیں ہیں۔۳۔پھر آریہ کے لئے براہین، سرمہ چشم آریہ، شحنۂ حق، آریہ دھرم، قادیان کے آریہ اور ہم، چشمہ معرفت وغیرہا کتابیں لکھ کر اہل اسلام کو ان کے شر سے آگاہ فرمایا۔۴۔اور سکھوں کے لئے ست بچن، ہی پر بس نہ کی بلکہ چولہ صاحب ایک اور، قرآن کریم کو منجملہ تبرکات بابا نانکkجی ثابت کرکے جنم ساکھی بھائی lبالا سے قوم سکھ کو جگایا اور خوب جگایا کہ ان پر حجت قائم کردی۔۵۔پھر برہمو دھرم کو براہین احمدیہ لکھ کر بیدار فرمایا کہ الہام کیا ہے اور اس کی لامحدودیت کیا ہے اور کس طرح ہوتا ہے اور خدا ہے تک وہ کیوں قدم نہیں اٹھاتے۔اگرچہ ہونا چاہئے تک وہ پہنچ گئے ہیں۔۶۔دارالسلطنت لاہور، میں اول تو فیصلہ آسمانی خود سنایا۔جلسہ اعظم مذاہب مہوتسو میں کیسا