خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 253 of 660

خطابات نور — Page 253

ہوسکا جان و دل سے سر توڑ کوششیں کیں۔پر الٰہی قدرت نے آخر ایک ممتاز جماعت قائم کردی۔ناقل) اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا۔‘‘ (رسالہ الوصیت۔روحانی خزائن جلد۲۰ صفحہ۳۰۴، ۳۰۵) عزیزان غور کرو! آپ کے بعد معاً دفن سے پہلے، جماعت میں بلااختلاف شمال سے جنوب اور مغرب سے مشرق تک وحدت کی روح اللہ قادر و مقتدر نے کس طرح پھونک دی۔اے خدا قربان احسانت شوم اب ایک مسلمان، ایک مدبر، ایک عاقبت اندیش اور ایک دنیا کے حوادث کو دیکھنے والا غور کرے۔حضرت میرزا کا ایک کیا، چار بیٹے اور پوتا موجود، میرزا کا داماد، محمد و علی نام کا مجموعہ قابل قدر اور لائق موجود، میرزا کا خسر بجائے باپ موجود ہے اور تمام قوم نے ایک اجنبی کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔اب خدارا اس آیت کریمہ کو پڑھو۔       (الانفال :۶۳، ۶۴) ترجمہ: اور اگر چاہیں گے وہ کہ دھوکا دیں تجھے تو سن لے بے ریب اللہ ہی بس ہے تجھے۔وہ وہی ہے جس نے تائید کی تیری اپنی نصرت سے اور مومنوں کے ساتھ۔اور الفت ڈال دی ان کے دلوں میں۔اگر خرچ کرتا تو جو کچھ اس زمین میں ہے سب کا سب نہ الفت دے سکتا تو ان کے دلوں میں۔لیکن اللہ نے الفت دی ان کے درمیان تحقیق اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔اس آیت کریمہ کو عملی رنگ میں کوئی دکھائے کہ جن مشکلات میں ہم کو ہمارے گدی نشینوں اور علماء پھر چلتے پرزوں اور مرتدوں نے ڈالنا چاہا۔ہمیں ہمارے مولیٰ ہمارے ناصر ہمارے ہاتھ اور ہماری کمروں کو تھامنے والے الحیّ القیّوم نے کیسا بچایا۔