خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 240 of 660

خطابات نور — Page 240

جلسوں کی اغراض {تقریر فرمودہ ۲؍ نومبر ۱۹۰۴ء بمقام سرائے مہاراجہ والی ٔ جموں و کشمیرسیالکوٹ } دنیا میں بہت سے جلسے ہوا کرتے ہیں ان کے اغراض اور مصالح مختلف ہوتے ہیں۔بعض جلسے اس قسم کے ہوتے ہیںکہ ان میں ملکی اور سیاسی امور پر بحث ہوتی ہے ، بعض جلسے اس غرض سے ہوتے ہیںکہ ان میں کسی خاص قوم کی اصلاح کے لئے غور کیا جاتا ہے اور بعض اصلاح اخلاق کے لئے ہوتے ہیں لیکن آج حسن اتفاق سے اور خوش قسمتی سے اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں کو ایک موقع دیا ہے کہ ایک لیکچر سنیں اور پھر اس کے مضامین پر غور کریں۔بہت سے لوگ ہوتے ہیں جو ایک بات سنتے تو ہیں لیکن چونکہ اس پر غور نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اس لئے ان کا سننا اور نہ سننا برابر ہوجاتا ہے اور جب انہیں پتا لگتا ہے کہ ہم اس کے فوائد سے محروم ہوگئے ہیں تو اس وقت انہیں دستِ افسوس ملنا پڑتا ہے۔اس مضمون کو قرآن شریف کی ایک آیت میں نہایت ہی لطیف طور پر بیان کیا ہے کیونکہ انسان ایک وقت اپنی غفلت پر پچھتاتا ہے مگر اس وقت اس سے کچھ بھی بن نہیں پڑتا۔چنانچہ فرمایا ہے۔(الملک:۱۱) کاش ! ہم ان باتوں کو سنتے اور پھر عقل سے کام لے کر ان پر غورکرتے تو آج ہم دکھوں میں نہ ہوتے۔یہ ایسے ہی لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے وہ باتیں نہ سنیں اور ان پر غور نہ کیا جیسی آج اس لیکچر کے ذریعہ آپ لوگوں کو سنائی جانی مقصود ہیں۔عقل انسان کے اندر ایک قوت اور طاقت ہے جس کا صحیح استعمال انسان کو بری کارروائیوں سے بچا لیتا ہے اور جلد بازی اور شتاب کاری سے روک کر غور کرنے اور سوچنے کی عادت پیدا کرتا ہے۔