خطابات نور — Page 229
واعظ یا مقررکی تقریر سے اگر کوئی بے بہا موتی حق و حکمت کا مل جاتا ہے تو اسے لے کر خوش ہوتے۔پھر سنانے والوں کی دو قسمیں یہ ہیں کہ بعض تو چند پیسوں کے لئے بولتے خواہ وہ انجمن کے واسطہ یا مسجد کے لئے یا اپنی ذات کے واسطے خواہ عمدہ کام کے واسطے۔یا سنانے والے ایسے ہوتے کہ طبیعت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ اپنے اعلیٰ خیالات کا اظہار کرنا چاہتے خواہ تحریری طور پر خواہ تقریری طور پر۔یا بعض اس کے عوض میں کچھ ماہانہ تنخواہ لیتے اور بعض ایسے ہوتے کہ وہ اپنے آپ کو مامور من اللہ یقین کرتے اور کہتے کہ ہم خدا کے بلائے سے بولتے ہیں۔پس اب تم خود سوچ لوکہ تم کس طرح کے سننے والے اور میں کس طرح کا سنانے والا ہوں۔میں نے تو دنیا کی ُکل کتابوں میں سے قرآن کریم اور بخاری شریف کو پسند کیا ہے۔بخاری کے ابتدا میں یہ بیان ہے کہ اسلام دنیا میں کس طرح آیا اور کیا لایا ہے۔اس کے اغراض کیا تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کس طرح ہوئی اور آخری ترقی انسانی پر اس کو ختم کیا اور کتاب شروع کی ہے اسلام سے اور اس کو ختم کیا ہے انسانی اعلیٰ ترقی پر۔لیکن پہلا باب باندھ کر پہلے ہی صفحہ پر اس غرض کو چھوڑ دیا ہے اور اس کا باب اس طرح شروع کیا ہے کہ کس طرح خدا کی وحی آخری نبی پر نازل ہوئی اس کے بعد اس کو ضرور تھا کہ اس کے ذرائع بیان کرتا۔ہر بات یوں شروع کی ہے کہ اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَ اِنَّ لِا مْرِئٍٍ مَّا نَوٰی۔یعنی ہر ایک اختیاری فعل۔(عمل کہتے ہیں اس فعل کو جس کو انسان اپنی استطاعت اور مقدرت سے شروع کرتا پس لا بدہے کہ اس کا کوئی ارادہ اور مقصد بھی ہو)جب انسان ارادہ سے کرتا ہے تو ہر آدمی کو اس کی نیت کا پھل مل جاتا ہے جیسے ارادے اور اغراض ہوتے ہیں ویساہی وہ پھل اٹھا تا ہے۔پس میں نے غور کیا کہ جس کتاب کو میں اس قدر عظیم الشان سمجھتا ہوں اس کا ہیڈنگ کچھ اور ہے اور یہ بات کچھ اور۔پس میںنے خیال کیا کہ اس شخص نے ہمیں ترغیب دی ہے کہ جب تم اس کتاب پر وقت خرچ کرنا چاہو تو سوچ لو کہ تمہارے اس سے ارادے کیا ہیں۔پس ان کی نیت ٹٹولنے کو یہ بات لکھ دی اب چونکہ مجھے وہ کتاب بہت عزیز ہے۔اس لئے تم سے کہتا ہوں کہ تمہارا سننا کسی غرض سے ہو خواہ وہ غرض چھوٹی سے چھوٹی اور خواہ بڑی سے بڑی ہو۔غرض کا لفظ جھوٹا ہے۔ہر شیء تنکے کو بھی کہتے ہیں او ر خدا کو بھی کہہ دیتے ہیں۔پس یہ لفظ اسی طرح