خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 228 of 660

خطابات نور — Page 228

تقویٰ اور اس کے اصول ونتائج (۳۰؍اکتوبر ۱۹۰۴ء بعد نماز ظہربمقام سیالکوٹ) (الحکم کے لئے مفتی فضل الرحمن صاحب نے لکھا)   ۔(اٰل عمران:۱۰۳تا۱۰۴) یہ ایک قرآن کریم کی آیت ہے۔اس سے میری ایک غرض ہے۔آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں لوگ مختلف خیالات کے پیدا کئے گئے ہیں۔کچھ تو ایسے ہیں کہ سننا جانتے اور سننا چاہتے۔کچھ تو ایسے ہیں کہ بولنا ہی جانتے اوربولنا ہی چاہتے ہیں۔تیسرے وہ ہیں جن کونہ بولنے کی خواہش ہے اور نہ سننے کی۔پھر بولنے اور سننے والے بھی دو قسم کے ہیں۔سننے والے دو قسم اس طرح ہیںکہ بعض تو بطورتماشا یا دل لگی یا بطورنکتہ گیری کے سنتے ہیں۔اور بعض اس غرض سے سنتے ہیں کہ اگر کوئی حق وحکمت کی بات مل جاوے تو اس سے فائدہ اٹھائیں۔پہلے لوگ اگر معرفت کا ہزار نکتہ بھی سنیں تو انہیں کچھ سروکار نہیں۔پھر اگر بولنے والے کے منہ سے ایک لفظ صرفی یا نحوی یا زباندانی کے لحاظ سے غلط نکل گیا ہے یا اس کے مطلب میں انہیں کچھ تامل نظر آتا ہے تو وہ صرف اس وعظ سے اتناہی نتیجہ لے جاتے کہ ہاں جی فلاں شخص کا وعظ بھی ہم نے سنا ہے۔لغتی غلطیاں بہت کرتا ہے۔پس ان کے حصہ میں تو نکتہ چینی ہے اور بس۔ان لو گوں کی تمثیل مکھی کی مثال ہے کہ اس کو کچھ تمیز نہیں کہ میں پاک مٹھاس پر بیٹھی ہوں یا سنڈاس پر یا بعض ان میں ایسے ہوتے کہ کوئی لفظ اپنی اغراض کے مطابق مل جاتا ہے تو وہ دوسروں سے پیش کرتے کہ دیکھو فلاں شخص کا بھی یہی مذہب ہے جو ہمارا ہے۔اور دوسرے لوگ وہ ہوتے ہیں جو غلطیوں اور ناموزوں الفاظ کو بالکل نظر انداز کرتے اور اس