خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 204 of 660

خطابات نور — Page 204

مرچ، گھی، پانی یا میری عادت کے موافق گوشت بھی ہو۔مگر میں نے اپنے اندر کبھی نہیں دیکھا کہ سب کا ایک ہی رنگ ہو۔بہر حال ان عناصر میں اختلاف بھی ہے اور یکجائی بھی۔یہ درخت جو میرے سامنے کھڑا ہے، تنا، پھل، پتّا، جڑ میں اختلاف بھی رکھتا ہے وہ بھی اتفاق کے ساتھ ایک خوشنما منظر بھی بناتا ہے۔پس ہر شخص کی شکل جوتی ،پگڑی، آواز، بال، جلد ، زبان، رنگ دوسرے کے ساتھ نہیں ملتے۔اگر سب ایک ہی شکل صورت والے ہوتے تو بھائی بندوں، بی بی بچوں میں کس قدر اختلاف پڑتا۔پھر اگر اس وقت اتفاق بھی نہ ہو تو سب لوگ باوجود اس قدر اختلافات کے ایک شخص کے اقوال سننے پر کیسے جمع ہوتے بلکہ باوجود مذہبی اور اخلاقی اختلاف کے بھی ایک وحدت تمہارے اندر ہے۔اگر اختلاف کلیّ ہو تا یا اتفاق کلیّ ہوتا جس کو اتفاق یا اختلاف تامہ کہا جاوے تو آج میرے خیال میں آپ لوگ کبھی بھی نہ جمع ہوتے۔ایک بچہ کے خیال، غذا، شکل میں والدین کے ساتھ باوجود اتحاد کے اختلاف بھی ہے اور وہ گھر باامن بھی کہلاتا ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ لوگوں میں اتفاق بھی ہو اور اختلاف بھی ضرور ہو۔اتفاق کے واسطے دنیا میں خدا کی طرف سے منادی آئے اور آتے رہیں گے۔مگر لوگوں کو ان سے اتفاق بھی کرنا پڑا۔پھر اختلاف میں ضرور قدم مارنا پڑا بلکہ میں کہتا ہوں کہ کسی بادشاہ کسی نبی، کسی رسول نے نہ ایک مذہب کر کے دکھلایا اور نہ ُکل دنیا میں وحدت کی روح پھونک سکا اگر کہیں وحدت کی روح ُپھنکی ہے تو ساتھ اختلاف کی بھی ضرور ُپھنکی ہے۔پس میں اپنی باتوں سے اختلاف کرنے والے کو تسکین دلاسکتا ہوں کہ میرا دل اس بات کے لئے بالکل تیار نہیں کہ سب لوگ میرے ساتھ متفق ہی ہوں۔میرے ہزاروں ہزار شاگرد، لاکھوں دوست سینکڑوں فدائی اور جان فدا کرنے والے لوگ ہیں۔مگر میں نے سب کو اپنے ساتھ واحد نہیں پایا بلکہ میں تو آزاد خیال بنانا چاہتا ہوں۔پھر میں کسی کی تسلی اور تشفی کا ٹھیکہ دار بن کر نہیں آیا اور نہ آئو ں گا۔میں تو اپنے خیا ل کا اظہار کروں گا۔پھر یہی اختلاف کے ساتھ اتحاد اور اتحاد کے ساتھ اختلاف کو بھی پسند کروںگا۔خدا نے ہمارے اغذیہ، اشربہ، علم وغیرہ چیزوں میں اختلاف ضرور رکھا ہے۔ہاں ایسی باتیں