خطابات نور — Page 193
اشاعت ہدایت کا یہ وقت آیا ہے یعنی یہ مسیح موعود کے وقت مقدر تھی چنانچہ اس وقت دیکھتے ہو اشاعت کے کس قدر سامان اور اسباب پیدا ہوگئے ہیں۔اور پھر جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک جمعہ کے ترک سے ۴ -۱ حِصّہ دل کا سیاہ ہوجاتا ہے اسی طرح پر یہ بھی مسلّم بات ہے کہ خدا کی وحی کے انکار سے سلبِ ایمان ہو جاتا ہے پھر خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل مسیح موعود کے انکار سے سلبِ ایمان ہونا یقینی ٹھہرا۔اور پھر جمعہ میں ایک وقت ایسا ہے جو قبولیتِ دُعا کا ہے اسی طرح پر جب خدا تعالیٰ کا کوئی برگزیدہ بندہ اصلاحِ خلق کے لئے آتا ہے تو لیلۃ القدر کا وقت ہوتاہے جس کی بابت قرآن شریف میں آچکا ہے کہ وہ (القدر :۴) ہوتی ہے ان سارے امور کو اکٹھا کرو اور پھر سوچو اور دیکھو کہ کیا اب یہ وہ وقت نہیں ہے؟میں ایمان سے کہتا ہوں اور پھر اس پر پورا یقین رکھتا ہوں کہ یہ وہی وقت ہے یہ وہی جمعہ ہے۔دجال بھی موجود ہے اور مسیح موعود بھی ہے۔ (الجمعۃ :۱۰)دو وقت ایسے آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُمّیوں میں اپنے رسول کو بھیجا ہے ایک وہ وقت تھا جب کُل دنیا پر تاریکی چھائی ہوئی تھی خصوصاً عرب میں اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورت تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق اور ابراہیم واسماعیل کی دُعا کے نتیجہ میں ان میں رسول مبعوث کیا اور اب آپ آئے تیرہ سو سال گزر نے کے بعد جب اسلام کی حالت پر اُمّیت غالب ہوگئی اور اخلاقی اور ایمانی اور عملی قوتیں کمزور اور مُردہ ہوگئی اور قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ نہ رہی بلکہ وہ وقت آ گیا کہ رَبِّ (الفرقان :۳۱)ا مصداق ہے اور قرآن آسمان پراُٹھ گیا اورہر طرف سے اسلام اور قرآن پر حملے ہونے لگے تو خدا کے اس وعدہ کا وقت آیا (الحجر :۱۰)اس کی حفاظت کی ضرورت ہے اور چونکہ وہ آسمان پر اٹھ گیا ہے گویا اس کے دوسرے نزول کی ضرورت ہے تب ہی تو (الجمعۃ :۴) والی قوم تعلیم اور ہدایت حاصل کرے اس لئے والی قوم کا معلّم ضرور ہے کہ وہی احمد ہو