خطابات نور — Page 192
کے پاس نہ ان کے بڑوں کے پاس کوئی علمی دلیل ہے ہاں یہ بات ہے۔(الکہف :۱۰۵)۔ان کو اپنی صنعتوں پر ہی ناز ہے۔اب ان تمام امور پر نظر کرو اور سوچو تو معلوم ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی جمعہ میں بھی فتن دجال سے ڈرایا ہے۔جمعہ میں فتن دجال سے ڈرانا اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے مجھے مطلع کیا ہے کہ جمعہ کے ساتھ مسیح موعود کو عظیم الشان تعلق ہے بلکہ میں یہ یقیناً کہتا ہوں کہ جمعہ کا وجود بھی مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت اور آمد کے لئے ایک نشان اور پیشگوئی تھا مگر افسوس ہے کہ جب مسلمانوں نے معمولی جمعہ سے لاپروائی کی اور اس کو ترک کر دیا تو اس بڑے جمعہ کی طرف آنے کی ان کو توفیق ملنی بہت مشکل ہو گئی۔میں نے بڑے غور کیساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کی تاریخ پر فکر کی ہے اور میں اس صحیح نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ سلسلہ زوال اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب مسلمانوں نے ترک جمعہ کو کیا۔فتن دجال سے جو جمعہ کے آداب میں ڈرایا ہے یہ اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ دجال کا فتنہ عظیم اس جمعہ میں ہونے والا ہے۔دجال کے مختلف معنی ہیں دجا ل سونے کے معنی بھی دیتا ہے اور دجال تجارتی کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں یہاں جملہ میں بیع کے لفظ سے بتایا ہے کہ دجال کی پرواہ نہ کرو اب یہ وہ جملہ آ گیا ہے جس کی یاد دہانی جمعہ میں رکھی گئی تھی۔عجیب بات ہے کہ اس مسیح موعود کو آدم بھی کہا گیا ہے اور پھر یہ اور بھی مشابہت ہے کہ جیسے آدم کی تکمیل جمعہ کی آخری گھڑی میں ہوئی تھی۔اسی طرح پر اس مسیح موعود کے ہاتھ پر بھی اسلام کی تکمیل اشاعت کاکام رکھا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (الصّف :۱۰) مفسروں نے بالاتفاق تسلیم کر لیاہے کہ یہ غلبہ مسیح موعود کے وقت میں ہوگا اور حضرت امامؑ نے (المائدۃ :۴) کے جو معنے کئے ہیں وہ آپ میں سے اکثروں نے سنے ہوں گے وہ فرماتے ہیں کہ تکمیل سے دو قسم کی تکمیل مراد ہے ایک تکمیل ہدایت دوسری تکمیل اشاعت ہدایت۔تکمیل ہدایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ہو چکی اورتکمیل