خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 167 of 660

خطابات نور — Page 167

ع ایں خیال است ومحال است وجنوں۔اور وہی مشکلے دارم کا سچا مسئلہ۔اندرونی اختلاف اور تفرقہ اگر کچھ ایسا نہ تھا کہ اس کے دل پر اثر انداز ہو سکتا اور اس کو صرف جزئی اختلاف قرار دیتا تھا تو پھر ضرور تھا کہ غیر قوموں کے اعتراضوں ہی کو دیکھتا جو اسلام پر کئے جاتے ہیں اور دیکھتا کہ وہ کونسا ذریعہ ہے جو اسلام کے نابود کرنے اور اس پر اعتراض کر کے اس کو مشکوک بنانے میں غیر قوموں نے چھوڑ رکھا ہے ؟ ذرا عیسائیوں ہی کو دیکھو کہ کس کس رنگ میں اسلام پر حملہ ہے شفاخانوں کے ذریعہ ، اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ ہفتہ وار ،روزانہ اور ماہواری ، ٹریکٹوں اور اشتہاروں کے ساتھ‘ فقیروں اور جوگیوں کے لباس میں ، مدرسوں اور کالجوں کے رنگ میں، تاریخ اور فلسفہ کی شکل میں غرض کوئی پہلو نہیں جس سے اسلام پر حملہ نہ کیا جاتا ہو۔اللہ تعالیٰ کی ذات پر وہ حملہ کہ بپتسمہ دیتے وقت کہا جاتا ہے واحد لاشریک باپ واحد لاشریک بیٹا واحدلاشریک روح القدس ، تین واحد لاشریک نہ کہو بلکہ ایک واحد لاشریک۔باپ قادر مطلق ، بیٹا قادر مطلق، روح القدس قادر مطلق تین قادر مطلق نہ کہو بلکہ ایک قادر مطلق۔باپ ازلی، بیٹا ازلی ، روح القدس ازلی تینوں ازلی نہ کہو بلکہ ایک ازلی۔اب غو رتو کرو کہ یہ توحید پاک پر کیسا خوفناک اور بیباک حملہ ہے یہ کیا اندھیر ہے اسی طرح اس کے اسما، افعال اور صفات پر مختلف پیرایوں اور صورتوں میں حملہ کیاجاتا ہے اور غرض اسلام کو نابود کرنا ہے۔اب اس اختلاف کو کون دور کرے اور کون اس مرض کا مداوا کرے ؟ وہی جو مزکّیہو۔مجھے نہایت ہی افسوس اور درد دل کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ عیسائیت کے اس پُر آشوب فتنہ کو فرو کرنے کے بجائے مسلمانوں نے مدد دی ہے اور اس آگ پر پانی ڈالنے کے بجائے مٹی کے تیل ڈال دینے کاکام کیا ہے۔جب اپنے عقائد میں ان امور کو داخل کرلیا جو عیسائیت کی تقویت کا موجب اور باعث ہوئے ہیں۔۵؎ یہ فیصلہ بالکل آسان اور صاف تھا اگر ذرا تدبّر اور غور سے کام لیا جاتا مگر رونا تو اسی بات کا ہے کہ عقل سے کوئی کام نہیں لیا جاتا خدا تعالیٰ کی مخلوق میں غور نہیں کیا جاتا۔یہ کیسی