خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 660

خطابات نور — Page 160

معیار سے اس کو پر کھنا چاہتے ہیں حالانکہ اس کو پر کھنے کے لئے وہ معیار اختیار کرنا چاہئے جو راستبازوں کے لئے ہمیشہ ہوتا ہے۔گورداسپور میں ایک موقع پر ایک شخص حضرت امام علیہ السلام کے متعلق مجھ سے کچھ سوال کرنے آیا میں نے جب اس سے یہ کہا کہ تم وہ معیار پیش کرو جس سے تم نے دنیا میں کسی کو راستباز مانا ہے تو وہ خاموش ہی ہو گیا اور سلسلہ کلام کو آگے نہ چلا سکا۔یہ بڑ ی پکی اور سچی بات ہے کہ راستباز ہمیشہ ایک ہی معیار سے پرکھے جاتے ہیں اور ان میں کوئی نرالی اور نئی بات نہیں ہوتی چنانچہ ہمارے ہادی کامل فخر بنی آدم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشادِ الٰہی یوں ہوا  (الأَحقاف:۱۰)کہہ دے میں کوئی نیا رسول دنیا میں نہیں آیا دنیا میں مجھ سے پہلے رسول آتے رہے ہیں تم نے اگر کسی کو راستباز اور صادق مانا ہے تو جس قاعدہ اور معیار سے مانا ہے تو وہی قاعدہ اور معیار میرے لئے بس ہے۔میں نے قرآن شریف کے اس استدلال کی بنا پر بارہا ان لوگوں سے جو حضرت میرزا صاحب کے متعلق سوال اور بحث کرتے ہیں پوچھا کہ تم نے کبھی کسی کو دنیا میں راستباز اور صادق تسلیم کیا ہے یا نہیں ؟ اگر کیا ہے تو وہ ذریعے اور معیار کیا تھے؟ جن ذریعوں سے تم نے صادق تسلیم کیا ہے پھرمیرا ذمہ ہوگا کہ اس معیار پر اپنے صادق امام کی راستبازی اور صداقت ثابت کردوں۔میں نے بارہا اس گُر اور اصول سے بہتوں کو لاجواب اور خاموش کرایا ہے اور یہ میرا مجرب نسخہ ہے اس راہ سے اگر چلو تو تم تمام مباحث کا دو لفظوں میں فیصلہ کر دو۔گورداسپور کا جو واقعہ میں نے بیان کیا ہے جو لوگ میرے ساتھ تھے انہوں نے دیکھا ہے کہ باوجود یکہ سوال کرنے والا بڑاچلبلا اور چالاک آدمی تھا مگر میرے اس سوال پر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا بعض آدمیوں نے اس کو کہا بھی کہ تم کسی کا نام لے دو اس نے یہی کہا کہ میں نام لیتاہوں تو مرتا ہوں (یعنی ماننا پڑتا ہے اور لاجواب ہوں گا) غرض یہ ایک سنّت اللہ ہے خدا کا اٹل قانون ہے کہ جب دنیا پر ضلالت کی ظلمت چھا جاتی ہے اور یہ بے دینی اور فسق وفجور کی رات اپنے انتہا تک پہنچ جاتی ہے تو اسی قانون کے موافق جو رات دن دیکھتے ہیں کہ رات کے آخری حِصّہ میں آسمان پر صبح صادق کے وقت روشنی کے آثار نظر