خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 660

خطابات نور — Page 120

موجود ہیں۔(یونس :۱۵) سے صاف پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بلند صدا سے بتلا دیا ہے کہ تم نے بہت سی قوموں کے اونچا پن اور نیچا پن کو دیکھا ہے۔اب ہم دیکھیں گے کہ تمہارا عملدرآمد کیا ہے؟ یہ ایک ضروری بات ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم میں جس قدر قصص مذکور ہوئے ہیں۔ان نبیوں کے ہیں جہاں جہاں نبی کریمؐ نے اور آپ کے صحابہ کرامؓ نے پہنچنا تھا اور یہ بات ایسی خصوصیات کے لئے ہے۔ورنہ قرآن کریم تو صاف فرماتا ہے۔(فاطر :۲۵) یعنی کوئی امت ایسی نہیں جس میں خدا کی طرف سے ایک ڈرانے والا نہ آیاہو۔ایک طرف تو یہ حال ہے کہ کوئی قوم اور کوئی بستی نہیں جس میں اللہ تعالیٰ کا مامور نہ آیا ہو۔دوسری طرف بہت سے ایسے رسول بھی ہو گذرے ہیں۔جن کا ذکر قرآن مجید میں نہیں فرمایا تو ایک غور طلب بات ہے کہ کیا وجہ ہے کہ قرآن کریم انبیاء علیہم السلام کے ذکر کو بیس اور تیس کے اندر محدود کرتا ہے۔مجھے یہ بات بتلائی گئی ہے کہ انہی نبیوں کا ذکر قرآن نے فرمایا ہے جن کے بلاد میں نافرمانوں اور فرمانبرداروں کے نشانات صحابہ کرام کے لئے موجود ہیں اور جہاں پیغمبر خدا نے کامیابی حاصل کرنی تھی اور صحابہ کرام نے دیکھ لینا تھا۔ (الانفال :۴۳) صحابہ وہاں پرپہنچے ان کا نمونہ یہ تھا کہ نبی کی مخالفت اور متابعت کا کیا انجام ہوتا ہے۔اب جبکہ ہر جگہ واعظ موجود ہے تو مجلس وعظ رفتنت خبط است مرگ ہمسایہ واعظ تو بس است یہاں قادیان میں جہاں میں نے اب گھر بنایا ہے وہاں حکام کی ڈیوڑھی تھی اور جہاں اپنے شہر میں گھر بنایا تھا وہ ایک باغ تھا جس کے پھل میں خود بھی کھا چکا ہوں اور مجھے یہ نصیحت برابر ملتی رہتی ہے۔ (ابراہیم :۴۶) یعنی ہم نے تم کو ایسے لوگوں کے مکانات میں آباد کیا ہے جن کے کھنڈرات ہر وقت یہ آواز دیتے رہتے ہیں کہ خدا کی نافرمانی کیا کیا کرسکتی ہے۔پس میں پھر یہی کہتا ہوں کہ بہت وعظ سننا اس کا منشا وہی ہے جو کھنڈرات اور ویران شدہ جگہوں کے دیکھنے سے پورا ہوتا ہے۔تاریخ دان اگردنیا کی تاریخ کی ورق گردانی کرے تو اس کو معلوم