خطابات نور — Page 119
مشکلات ومصائب سے رہائی پانے کا گُر {تقریر فرمودہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۰ء} (اٰل عمران :۱۰۳) اس سے پیشتر کہ میں اس آیت شریف کے معنی بیان کروں یہ بتلانا چاہتا ہوں کہ اگر انسان دوراندیشی اور فکر سے کام لے تو ہر ایک جگہ اس کو واعظ مل سکتا ہے۔اپنے گردوپیش کے نظارے اس کو بتلا سکتے ہیں کہ مولیٰ کریم کی رضا جوئی اور فرمانبرداری کا نتیجہ کیا ہوتا ہے اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کیا رنگ لاتی ہے۔ہرنوآباد گھر کے پاس ضروری ہوتا ہے کہ ایک اجڑا ہوا گھر بھی ہوتا کہ اس نوآباد کو سبق ملتا رہے کہ حداعتدال سے گزر جانا اور قوانین شریعت کی پابندی نہ کرنا یوں اجاڑ دیا کرتی ہے۔یہ نشان ہر جگہ برابر ملے گا۔غرض ہر شہر میں آباد کرنے کا رنگ بھی موجود ہے اور اجاڑ دینے کا نمونہ بھی۔یہی مسجد جس میں ہم بیٹھے ہیں (حضرت اقدس کی مسجد اقصیٰ) اس کی بابت ایک بات سناتا ہوں۔کہتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب کے والد صاحب نے جب اس مسجد بنانے کا ارادہ کیا تو فرمایا کہ میرا دل یہ چاہتا ہے کہ اس کو ایک کنال زمین میں بنائوں۔اس مسجد کے اردگرد جس قدر مکان آپ لوگ دیکھتے ہیں۔دراصل یہ مسجد ہی کی زمین میں ہیں۔لوگوں نے جب آپ کی یہ تجویز اور رائے سنی تو کہا کہ اگر سارے قادیان کے لوگ بھی عید کے لئے اس میں جمع ہوں تب بھی محسوس نہ ہوں گے مگر انہوں نے کہا کیا کروں میرے دل میں کچھ ایسا ہی آتا ہے کہ اس کو ایک کنال زمین میں بنائوں۔خیر وہ وقت تو گزر گیا لیکن اب میں کہتا ہوں کہ میری آنکھوں نے دیکھ لیا ہے کہ یہ مسجد ایک کنال زمین میں بھی ہمارے اجتماع کے وقت کافی نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ کی عادت اور سنت اسی طرح پر ہے کہ وہ آباد بھی کرتا ہے اور جب اس کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اجاڑ بھی دیتا ہے اور اس ویرانی اور آبادی کے نظارے ہر جگہ دانش مند انسان کو سبق دینے کے لئے