خطابات نور

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 107 of 660

خطابات نور — Page 107

انسان میں کمزوریاں ضرور ہیں اور ان کے دور کرنے کے لئے اجتماع ایک عمدہ چیز ہے۔جس بات کے لئے تم بلائے گئے ہو وہ کیا چیز ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کا نمونہ دیکھنے کے واسطے تیرہ سو برس سے جس کے دیکھنے کو آنکھیں ترستی تھیں۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ وقت دیا اور پھر اس عالی شان انسان کی شناخت کی توفیق دی جو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہوکر آیا ہے۔یہ وہ وقت ہے کہ اس میں پھر پتہ لگے گا کہ انسان کس طرح ترقی کرتا ہے تدریجی کمال حاصل کرتا ہے کس طرح پر اس کے دشمنوں کو ناکامی اور نامرادی حاصل ہوتی ہے اور وہ اور اس کی جماعت بامراد اور فائز المرام ہوتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جس طرح پر صحابہ کی روحانی تربیت ہوئی اور ان کی تکمیل ہوئی اسی طرح پراب پھر خدا نے چاہا ہے کہ ایک جماعت تیار کرے جو اسی طرح پر کمالات روحانی حاصل کرے۔خدا تعالیٰ کا کلام اب پھر نازل ہورہا ہے جس سے قرآن کریم کی صداقتوں کی تازہ بتازہ تائید ہوتی ہے اور اس کے ثمرات و برکات کا تازہ بتازہ نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کس طرح پر تحدّیاں ہوتی تھیں اور کس طرح پر مخالف قومیں باوجود سر توڑ کوششوں اور مخالفتوں کے بھی ان تحدّیوں کے جواب سے عاجز اور لاجواب ہوتی تھیں۔ہماری سنی سنائی باتیں تھیں مگر آج دکھایا جاتا ہے کہ وہ تحدّیاں اس طرح پر ہوتی ہیں۔خدا تعالیٰ کا راست باز مامور اور مسیح اللہ تعالیٰ کے منشا اور تائید سے قرآن کریم کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے آج تحدّیاں کررہا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ کس طرح پر مخالف شرمندہ ہورہے ہیں اور وہ ان تحدّیوں کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتے۔ساری قوم کو بلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ تم جس کو چاہو اپنے ساتھ ملالو اور اس کا مقابلہ کرو مگر میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر یہ شخص کاذب ہے (معاذ اللہ) جیسا کہ یہ لوگ مشہور کرتے ہیں کہ یہ عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا اور اس نے کوئی باقاعدہ تعلیم نہیں پائی مگر وہ خدا تعالیٰ کی تائید سے بول رہا ہے۔اس کے قلم میں اللہ تعالیٰ کی طاقت کام کرتی ہے اور یہ انسانی طاقت میں ہرگز ہرگز نہیں کہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرسکے اگر انسانی طاقت بھی ایسا کرسکتی تو پھر خدا خدا ہی نہ رہتا۔ان لوگوں کے مقابلہ کے لئے نہ نکلنے ہی نے ثابت کردیا ہے کہ