خطابات مریم (جلد دوم) — Page 56
خطابات مریم 56 56 تحریرات نیکی کے عوض مجھے حاصل ہوا ہے اس بات کو سوچ کر میں ورطۂ حیرت و استعجاب میں پڑ جاتا ہوں“۔(اصحاب احمد جلد 12 صفحہ 184) آپ حضرت اماں جان کی بہت پیاری بیٹی اور سب بہن بھائیوں کی بہت لاڈلی بہن تھیں۔حضرت فضل عمر نے آپ سے بیٹوں کی طرح محبت کی۔آپ نے قرآن مجید ختم کیا تو آپ کی آمین لکھی جس میں خدا تعالیٰ کے احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے اپنے بہن بھائیوں کے لئے عظیم دعائیں کیں۔آپ فرماتے ہیں۔حفیظہ جو میری چھوٹی بہن ہے نہ اب تک وہ ہوئی تھی اس میں رنگیں ہوئی جب ہفت سالہ تو خدا نے پہنایا اسے بھی تاج زریں کو پڑھایا ہمارا پاسباں ہو کلام الله اللہ سب اس بنایا گلشن قرآن کا گل چیں الہی جیسی دولت عطا کی ہمیں توفیق دے صدق و صفا کی تیرے چاکر ہوں ہم پانچوں الہی ہمیں طاقت عطا کر تو وفا کی الہی تو ہمیں ہر وقت تو راحت رساں ہو ہمیں اپنے لئے مخصوص کرلے ہمارے دل میں آ کر مہماں ہو عطا کر جاہ و عزت دو جہاں میں ملے عظمت زمین و آسماں میں بنیں ہم بلبل بستان احمد ہے برکت ہمارے آشیاں میں بنیں ہم سب کے سب خدام احمد کلام اللہ پھیلائیں جہاں میں تاریخ گواہ ہے کہ جہاں حضرت بانی سلسلہ کی ساری بشارتیں آپ کی اولاد کے متعلق بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئیں وہاں حضرت فضل عمر کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی یہ دعائیں بھی مستجاب ہوئیں۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ گو ایک لمبے عرصہ سے بیمار تھیں لیکن پھر بھی جماعت کی خواتین اور بچیاں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتیں اور آپ کی دعاؤں اور نصائح سے مستفیض ہوتیں جس سے اب ہم محروم ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اور عظیم سعادت یہ عطا فرمائی تھی کہ بیرون پاکستان سوئٹر رلینڈ