خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 54 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 54

خطابات مریم 54 تحریرات کے حالات زندگی جو محترم ملک صلاح الدین صاحب نے اصحاب احمد کی بارہویں جلد میں مرتب کئے ہیں کا پیش لفظ تحریر کرتے ہوئے فرمایا۔15،14 سال کی عمر سے ہی ان میں احمدیت کی پختگی اور سعادت دیکھ کر ان کے والد ( نواب محمد علی خاں مرحوم) نے ان کو چن لیا تھا۔عزیزہ امتہ الحفیظ بیگم کیلئے رشتہ کا پیغام دینے کو۔کہ میرا یہی لڑکا مناسب اور موزوں ہے۔فرماتے تھے کہ حضرت بانی سلسلہ کی دختر کا پیام اس کیلئے دینے کی جرات کر سکتا ہوں جس کو ایمان و اخلاص اور احمدیت میں دوسروں سے بڑھ کر پاتا ہوں پھر یہ رشتہ ہو گیا اور مبارک ہوا۔خود حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کا بیان ہے کہ ” جب میری شادی حضرت بانی سلسلہ کے گھر ہونے لگی تو حضرت والد صاحب نے مجھے تحریر فرمایا کہ اپنا رشتہ ہونے پر بھی میں کس طرح حضرت اماں جان اور حضرت صاحب کی اولاد اور اولاد در اولاد کا احترام کرتا ہوں اور لکھا تھا کہ اگر یہی طرز تم بھی برت سکو تو پھر اگر تمہاری منشاء ہو تو میں اس کی تحریک اور استخارہ کروں ورنہ ایسے پاک وجودوں کی طرف خیال لے جانا بھی گناہ ہے“۔(اصحاب احمد جلد 12) حضرت نواب محمد علی خان صاحب کے اُس خط کے الفاظ میں درج کرتی ہوں جو آپ نے 9 رمئی 1914ء کو اپنے صاحبزادے نواب محمد عبد اللہ خان صاحب کو لکھا تھا۔اس خط کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آپ کے دل میں حضرت بانی سلسلہ کی بیٹیوں کے لئے کتنی عزت اور احترام تھا۔آپ کہتے ہیں :۔”اب میں پھر رشتے کے متعلق لکھتا ہوں اس معاملہ میں ایک مشکل بھی ہے اگر تم اس مشکل کو برداشت کر سکتے ہو تو رشتے کی طرف توجہ کرنا ورنہ پھر بہتر ہے کہ تم ہاں نہ کرنا۔دوسرے یہ کہ رشتہ کے بعد حضرت صاحب یا ان کے خاندان سے ہمسری اور ہم کفی کا خیال اکثر لوگ کر بیٹھتے ہیں اور اس سے ابتلاء آتا ہے۔قابل غور امر یہ ہے کہ حضرت صاحب کے ساتھ رشتہ کیوں چاہا جاتا ہے صاف بات ہے کہ جب ان کے کپڑے تک بابرکت ہیں تو ان کے جگر کے ٹکڑے کیوں نہ با برکت ہوں گے“۔