خطابات مریم (جلد دوم) — Page 184
خطابات مریم 184 خطابات اور ناک بھوں چڑھانا، کہیں لڑکے کو کم سلامی یا حسب خواہش چیزیں نہ دینے پر اعتراض۔کہیں سسرال والوں کی طرف سے کم سامان لانے پر لڑکی والوں کے اعتراضات کہیں لڑکے والوں سے لڑکی کے مطالبات۔یا د رکھیں یہ باتیں دن بدن معاشرہ میں صفائی قلب اور پیار و محبت کو کمزور کرتی جائیں گی اور دن بدن معاشرہ کی مشکلات بڑھتی جائیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب بیعت لینی شروع کی تو شرائط بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی مقرر فرمائی تھی کہ بیعت کرنے والا یہ پختہ عہد کرے کہ وہ اتباع رسم اور متابعت ہوا و ہوس سے باز آ جائے گا اور قرآن شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا اور قال اللہ اور قال الرسول کو اپنی ہر ایک راہ میں دستور العمل قرار دے گا۔(اشتہار تکمیل تبلیغ 12 جنوری 1889ء) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی غرض ہی يحي الدين و يقيم الشريعة (تذكر صحي 55) تھی آپ کوئی نئی تعلیم نہیں لائے آپ کا تو دعوی ہی یہ تھا کہ آپ دنیا کا تعلق اپنے رب سے قائم کریں اور ہر انسان جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں داخل ہے وہ آپ کی اطاعت کرے آپ کے کہنے پر چلے اپنی زندگی آپ کے بتائے ہوئے طریق پر گزارے اور جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا تھا کہ كان خلقه القرآن (مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 91) ہر مسلمان کی زندگی کان خلقه القرآن کے مطابق ہو۔غلبہ اسلام کے لئے بہت ضروری ہے کہ وہ جماعت جو اس بات کا دعویٰ رکھتی ہے کہ خدمت اسلام کے لئے اسے کھڑا کیا گیا ہے اس کے افراد کی اپنی زندگیاں سادہ ہوں اور رسومات کا ان کی زندگیوں میں دخل نہ ہو۔رسومات کو اپناتے ہوئے آپ ترقی نہیں کر سکتیں۔ترقی کیلئے ضروری ہے کہ عملی میدان میں آپ قدم بقدم مل کر چلیں اور مل کر قربانیاں دیں۔رسومات میں پھنس کر آپ میں وہ جنہ یہ اخوت نہیں رہے گا۔جس کے نتیجہ میں سب یکساں قربانی دے سکتے ہیں آپ کو یا د ہونا چاہئے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ سے خاص طور پر مخاطب ہو کر فرمایا تھا:۔میں بڑی تاکید کے ساتھ آپ میں سے ہر ایک کو کہتا ہوں کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ