خطابات مریم (جلد دوم) — Page 60
خطابات مریم 60 60 تحریرات تین بیویاں موجود تھیں بچے بھی تھے اپنے فرائض کو ادا کر سکتی۔ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں حضرت فضل عمر پر جنہوں نے قدم قدم پر میری راہ نمائی کی اور میری ہمت کو پست نہ ہونے دیا۔عام طور پر یہ نظارہ دنیا میں نظر آتا ہے کہ اگر دوسری شادی کی ہے تو پہلی بیوی بے چاری الگ تھلگ ہو جاتی ہے۔میاں کی اس طرف توجہ ہی نہیں رہتی۔آپ نے بڑی بیویوں کا ہمیشہ ادب کروایا۔آپ کا سلوک سب بیویوں سے اتنا اچھا تھا کہ ہر ایک یہی سمجھتی تھی کہ شاید مجھ سے ہی سب سے زیادہ تعلق ہے۔بیماری میں خاص توجہ فرماتے تھے چونکہ وقت آپ کے پاس کم ہوتا تھا سارا دن ملاقاتوں، ڈاک پڑھنے ، جواب لکھوانے اور جماعتی ذمہ داریاں ادا کرنے میں گزر جاتا تھا۔اس لئے بچوں کی طرف توجہ دینے کیلئے وہی وقت ہوتا تھا جب آپ کھانے پر تشریف لاتے تھے۔اس مختصر سے وقت میں کھانا بھی کھانا ہنسی مذاق میں چٹکلے بھی اور بچوں کی تربیت بھی۔سفروں پر جانا تو سب ساتھ ہی ہوتے تھے بڑا اچھا وقت گزرتا تھا۔سیر و شکار کا بے حد شوق تھا۔عموماً قادیان میں جلسہ کے بعد تھکان اُتارنے کے لئے راجپورہ جو دریا کے پاس ایک گاؤں تھا جاتے تھے۔کچے گھر تھے وہاں جا کر گھوڑے کی سواری کرنی ، بچوں کو سواری سکھانی ، ہمیں سکھانی ، مچھلیاں پکڑنی ، مرغابیاں اورمنگ کا شکار کرتے ، مچھلیاں پکڑتے روزانہ وہاں سے آدمی شکار لے کر قادیان آتا تھا۔اپنے رشتے داروں کے گھروں میں ، رفقائے حضرت بانی سلسلہ کے گھروں میں ، قدرت ثانیہ کے مظہر اول کے گھر میں اور بہت سے گھروں میں بھجواتے۔اپنے گھروں میں شوق سے پکواتے ، پکنکوں پر جاتے تو مختلف چیزیں تقسیم کر دیتے۔فلاں یہ بنائے گا اور فلاں یہ بنائے گا اور چھوٹی چھوٹی جزئیات میں اتنی دلچسپی لیتے کہ کسی اجنبی کو یہ محسوس ہوتا کہ شاید آپ کو اور کوئی کام ہی نہیں ہے۔زندہ دلی اور شگفتگی آپ پر ختم تھی۔ہنسی مذاق میں بھی ایک کڑی نظر ہر ایک پر رہتی تھی جہاں ذرا بھی وقار یا شریعت یا جماعت کی روایات کے خلاف کوئی بات نظر آتی۔پھر کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔بچوں کی عزت نفس کا بہت خیال کرتے تھے ایک دفعہ کسی بچہ کی سرزنش کی۔میں آواز سن کر آ گئی اس وقت تو مجھے کچھ نہ کہا جب وہ بچہ چلا گیا تو کہنے لگے تمہیں نہیں آنا چاہئے تھا۔میں نے اُسے سمجھانا تھا مگر تمہاری موجودگی میں اُسے ڈانٹ پڑی تو وہ شرمندہ ہورہا ہوگا۔