خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 548 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 548

خطابات مریم 548 خطابات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنے علم اور سمجھ کے مطابق کتابیں پڑھیں۔بار بار پڑھیں، سمجھیں غور کریں اور ان کو پڑھ کر آپ کے دماغ اور دلوں میں نور بھرے گا اور دلائل کا ایک نہ ختم ہونے والا خزانہ آپ کو مل جائے گا۔جس کے ذریعہ آپ کبھی مغلوب نہیں ہو سکتیں اور اب تو آپ کیلئے بڑی آسانی ہوگئی ہے کیونکہ انگلستان میں کتا بیں چھپنے لگ گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو جو سب سے بڑی نعمت عطا فرمائی ہے وہ خلافت کی نعمت ہے جو میں پہلے ذکر کر چکی ہوں ہماری اندرونی تنظیموں کی ترقی بھی اور غلبہ اسلام سب کچھ خلافت کے ساتھ وابستہ ہے اس کی قدر پہچانیں۔قدر پہچاننے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف منہ سے کہہ دیں کہ ہم بہت قدر کرتے ہیں بلکہ اپنے عمل سے ثابت کریں کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے اس انعام کی جو قدر کرنی چاہئے ہم کر رہے ہیں اور اس کا طریق یہ ہے کہ خلیفہ وقت کی مکمل اطاعت کی جائے ، خلیفہ وقت کے ہر فیصلے کو بشاشت قلب کے ساتھ قبول کیا جائے۔جو لوگ خلیفہ پر یا نظام جماعت پر اعتراض کرتے ہیں ان کا ساتھ نہ دیا جائے۔خلیفہ وقت کی صحت و عافیت اور خلافت کی برکات قائم رہنے اور جماعت کے استحکام اور ترقی کیلئے دعائیں کی جائیں۔اپنے بچوں کے دلوں میں خلافت کی محبت پیدا کی جائے۔خلیفہ سے ذاتی تعلق قائم کیا جائے۔ان سب اصولوں پر پہلے خود چلیں پھر اپنے بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔یہ باتیں ان میں پیدا کرنے کی کوشش کریں تا چراغ سے چراغ جلتا چلا جائے اور نسلاً بعد نسل اسلام کے فدائی ، اسلام کا درد اور محبت رکھنے والے پیدا ہوتے رہیں۔سچی محبت رکھنے والے۔یہ اسلام نہیں جو آج کل مذہب کے نام پر نظر آتے ہیں۔کہیں میلاد کے نام پر کہیں قرآن خوانی ، کہیں نیاز کہیں فاتحہ خوانی۔یہاں تو نہیں مگر پاکستان میں سب کچھ ہوتا ہے۔نہ خلفاء کے قول سے کہیں نظر آتا ہے اور یہ باتیں دھبہ ہیں اسلام کے نام پر اسلام جو دین فطرت ہے تو حید کا علمبردار ہے تو حید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑ نا چاہئے اور اپنے مذہب کا خلاصہ لا الہ الا الله محمد رسول اللہ ہے اسی پر ہمیشہ قائم رہنا چاہئے اور یہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اسلام صرف عقائد کا مذہب نہیں ہے بلکہ انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہے۔اسلام نے ایک ایسے معاشرے کی بناء ڈالی جس معاشرے کو مثالی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے اصولوں پر چلنے سے دنیا میں امن قائم رہ سکتا