خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 287 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 287

خطابات مریم 287 خطابات جب حضرت اقدس کی وفات ہوگئی اور آپ کا جنازہ قادیان لایا گیا اور باغ کے بڑے کمرے میں رکھا گیا۔آپ پائنتی کی طرف کھڑی تھیں اور نہایت درد ناک آواز میں فرمایا :۔تیرے سبب سے میرے گھر میں فرشتے اترتے تھے۔(سیرت جلد 20) آپ ایک شفیق ماں تھیں ، ایک شفیق بہن تھیں، آپ کے اخلاق و عادات بھائیوں سے اتنی محبت کی کہ وہ بھی آپ پر جان چھڑ کہتے تھے۔بہت شکر کرنے والی ہر وقت کلمات شکر آپ کی زبان پر رہتے تھے۔دعاؤں کی بہت عادی تھیں۔غریبوں کیلئے خاص تڑپ دل میں رکھتی تھیں۔ساری جماعت کے لئے درد وسوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں اور۔۔اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی یتیموں کی پرورش کی طرف خاص توجہ تھی۔کوئی نہ کوئی یتیم لڑکی یا لڑکا ہمیشہ آپ کے زیر سایہ پلتا رہا۔مہمان نوازی آپ کے اخلاق کا طرہ امتیاز غریب امیر جس کا علم ہوتا یاد ہے پوچھنے ضرور جاتیں۔طبیعت میں بالکل تکلف نہیں تھا۔اسراف سے پر ہیز کرتی تھیں اس زمانہ میں عورتوں میں تعلیم بہت کم تھی مگر آپ بہت باعمل خاتون تھیں۔ہر مسئلہ کو اچھی طرح سمجھتی تھیں قرآن مجید کی بہت سی سورتیں حفظ تھیں اردو تو آپ کے گھر کی لونڈی تھی۔اردو زبان کے محاورات پر بہت عبور حاصل تھا۔خاندان کی بچیوں سے اکثر کتابیں پڑھوا کر سنتیں اور جہاں کوئی بچی غلطی کرتی اصلاح فرما دیتیں صحیح تلفظ بتا تیں اس طرح بچیوں کو صحیح سکھانے کے لحاظ سے ان پر آپ کا بہت بڑا احسان ہے۔میرے سامنے کئی دفعہ حضرت مصلح موعود نے کوئی نظم کہتے ہوئے حضرت اماں جان سے پوچھا کہ یہ محاورہ یوں استعمال ہوتا ہے؟ اور جب آپ تصدیق فرما دیتیں تو تسلی ہو جاتی۔کسی کام کے کرنے سے عار نہ تھا گھر کی صفائی کرواتیں۔چرخہ کا تنا، چکی پیسنا سب کا م کر لیتی تھیں۔میری جب شادی ہوئی تو میری عمر سترہ سال کی تھی۔کچھ بھی آتا جاتا نہ تھا مگر حضرت اماں جان نے مجھے اس طرح سکھایا کہ معلوم بھی نہیں ہوا کبھی یہ نہیں پوچھا کہ تمہیں یہ چیز پکانی آتی ہے یا نہیں بلکہ ہمیشہ یہ کہا آؤ یہ کام کریں یہ کھانا تیار کریں خود پکانے لگنا میں پاس بیٹھی دیکھتی رہی خود بخود آ گیا دوبارہ کہا جیسا اس دن تم نے پکا یا پھر پکاؤ حالانکہ پہلی دفعہ خود انہوں نے پکایا تھا