خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 277 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 277

خطابات مریم 277 خطابات سے ایک امر یہ تھا :۔دعا کریں کہ خدا تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا کرے“۔ادھر حضرت میر صاحب کی تڑپ کہ اللہ تعالیٰ مجھے نیک اور صالح داماد عطا فرمائے ادھر اللہ تعالیٰ اپنے عرش سے حضرت اقدس کو ایک اور شادی کی بشارتیں دے رہا ہے۔حضرت اقدس نے اپنے رشتہ کی حضرت میر صاحب کو تحریک کی جو کچھ تر ڈد کے بعد منظور ہو گئی۔حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی نے ایک دفعہ حضرت میر صاحب سے سوال کیا۔حضرت یہ مقام جو آپ کو حاصل ہوا اس میں کیا راز ہے وہ کون سی بات تھی جو آپ کو اس جگہ لے آئی۔حضرت میر صاحب کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے اور بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا :۔”میرے ہاں جب یہ بلند ا قبال لڑکی پیدا ہوئی اس وقت میرا دل مرغ مذبوح کی طرح نہ پا اور میں پانی کی طرح بہہ کر آستانہ الہی پر گر گیا میں نے اس وقت بہت دردو سوز سے دعائیں کیں کہ اے خدا تو ہی اس کے لئے سب کام بنا ئیو معلوم نہیں اس وقت کیسی قبولیت کا وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے صدقہ میں مجھے یہاں لے آیا۔سیرت حضرت اماں جان صفحہ 232) نہایت سادگی سے آپ کی شادی ہوئی۔حضرت اقدس اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہیں لے کر گئے تھے۔صرف ڈھائی سو روپے نقد تھا اس پر بھی رشتہ داروں نے بہت طعن کئے کہ اچھا نکاح کیا ہے کہ نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا کسی قسم کی رسم نہیں کی گئی۔جہیز کا سامان ایک صندوق میں بند کر کے کنجی حضرت صاحب کو دے دی گئی اور حضرت اقدس رخصتا نہ کروا کے حضرت اماں جان کو قادیان لے آئے۔نئی دلہنوں کی سرال میں آؤ بھگت ہوتی ہے۔مگر حضرت اماں جان ایسی جگہ اور ایسے حالات میں شادی ہو کر آئی تھیں کہ حضرت اقدس کے سب رشتہ دار آپ کے مخالف تھے۔گھر میں کوئی نئی دلہن کو خوش آمدید کہنے والا بھی نہیں تھا۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے اپنے ایک مضمون میں حضرت اماں جان کی ایک روایت بیان فرمائی ہے کہ۔”اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو سب کنبہ سخت مخالف تھا (اس وقت تک شادی