خطابات مریم (جلد دوم) — Page 182
خطابات مریم 182 خطابات۔جدید فلسفہ اور تہذیب اور اباحت اور لا مذہبی کی اتباع ہوتی ہے۔کوئی کہتا ہے مسیحیت خدا کا نور ہے۔کوئی ہندو مذہب کو۔کوئی اسلام کو خدا کا نور قرار دیتا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسم و رواج اور قشر اور چھلکا خدا کا نور نہیں کہلا سکتا نور تو خدا تعالیٰ کی طرف جانے کا نام ہے جس کا قدم خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اُٹھا اُسے نور کا حاصل کرنے والا کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے نور کو وہی پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔وجود باری پر دلالت کرنے کیلئے اس جگہ دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔عزیز اور حمید - عزیز کے معنی غالب اور حمید کے معنی قابل تعریف کے ہیں۔ان دو صفات کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک عملی روشنی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا علمی پر۔عزیز سے مل کر انسان اپنے دشمنوں پر غالب آتا ہے اور ظاہری اندھیرے یعنی تکالیف اور مصائب دور ہو جاتے ہیں اور حمید سے مل کر انسان اپنے اندرونی شیطان پر غالب آ جاتا ہے اور باطنی اندھیرے یعنی وساوس اور شبہات اور جہالت دور ہو جاتے ہیں۔( تفسیر کبیر جلد 3 سورہ ابراہیم صفحہ 438) اللہ تعالیٰ نے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اور حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان لانے کی توفیق عطا فرمائی ہے ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ ہے کہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور آپ کی اطاعت کرنے اور قرآن مجید پر عمل کرنے کے نتیجہ میں ظاہری اور باطنی اندھیروں سے نجات حاصل ہوسکتی ہے کیا یہ مقصد ہم نے حاصل کر لیا ہے اور کیا واقعی ہماری کمزوریاں دور ہو چکی ہیں؟ باطنی اندھیرے کئی قسم کے ہیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ظلمتوں کی کئی قسمیں ہیں۔ظلمت عادات ، ظلمت رسم، ظلمت جہل اور ظلمت عدم استقلال۔علم کی طرف سب سے زیادہ توجہ اسلام نے دی ہے کہ ہر مسلمان مرد اور عورت پر علم حاصل کر نا فرض قرار دیا ہے۔علم سے مراد صرف دنیاوی علم نہیں بلکہ اصل علم قرآن کا علم ہے۔ایک احمدی اور جہالت میں آسمان زمین کا بعد ہونا چاہئے۔باوجود بہت زور دینے کے دیہات میں کثرت سے خواتین اور بچیاں علم سے بے بہرہ ہیں۔آپ نے مہدی موعود کو مانا ہے۔آپ