خطابات مریم (جلد دوم) — Page 941
خطابات مریم 941 زریں نصائح خطاب لجنہ جرمنی کولون 26 جولائی 1987 ء کو حضرت سیدہ چھوٹی آپا جان مریم صدیقہ صاحبہ نے کولون جماعت کا دورہ کیا۔کولون جماعت کی ممبرات کی طرف سے سپاسنامہ پیش کئے جانے کے بعد آپ نے لجنہ اماء اللہ کولون کے کام کو بہت سراہا اور آپ نے سورۃ ابراہیم کی آیت کی روشنی میں تمام بہنوں کو قرآنی تعلیم کو اپنے اوپر نافذ کرنے کی تلقین فرمائی۔اسی طرح سورۃ مائدہ کی ایک آیت کی روشنی میں آپ نے فرمایا قرآن کریم اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانے والی کتاب ہے۔اسی میں دونوں جہانوں کے فوائد ہیں۔جب تک مسلمان اس پر عمل کرتے رہے اور اپنی زندگیاں قرآن مجید کے مطابق گزارتے رہے وہ ساری دنیا پر چھائے رہے۔اسی ضمن میں نصائح کرتے ہوئے فرمایا کاش جماعت احمد یہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اسلام کے کھوئے ہوئے وقار کو پھر واپس لائے اور پھر وہی اخلاق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں میں دنیا پھر دیکھے جنہیں دیکھ کر انسان کو خدا تعالیٰ یاد آ جاتا ہے۔وہ امین ہوں تو ایسے امین کہ خود اور بیوی بچے بھوکے مر جائیں لیکن دوسروں کی امانت میں خیانت نہ ہو۔وہ سچے ہوں تو ایسے بچے کہ مال و دولت جائے ، جان جائے ، عہدہ جائے لیکن جھوٹ کا ایک لفظ زبان پر نہ آئے۔وعدہ کریں تو جان کے ساتھ نبھائیں اور ارادہ کریں تو سر ہتھیلی پر رکھ کر اسے پورا کریں۔احمدی مرد اور عورتیں خواہ وہ کسی بھی ملک میں ہوں سچے دل سے احمدیت کو قبول کیا ہے تو ان کے اخلاق کردار اور انسانوں سے سلوک اور ان کا معاشرہ سب قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہونا چاہئے۔(از تاریخ لجنہ جرمنی صفحہ 18)