خطابات مریم (جلد دوم) — Page 938
خطابات مریم 938 زریں نصائح خطاب لجنہ اماءاللہ جرمنی برلن 23 جولائی 1987ء کو حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ صدر لجنہ اماء الله مرکز یہ برلن تشریف لے گئیں ان کے ہمراہ نیشنل صدر مکر مہ کوثر شاہین صاحبہ، نائب صدر مسز نا ز صاحبہ اور مسز شمیم امینی صاحبہ بھی تھیں۔خطاب میں آپ نے فرمایا :۔خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ دنیا میں ہر جگہ قائم ہو چکی ہے۔ہر احمدی جماعت احمدیہ کا نمائندہ ہے۔صرف زبان سے یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ ہم احمدی ہیں جب تک عمل بھی ساتھ نہ ہو۔آپ نے قرآن کریم کی تعلیم پر زور دیا اور فرمایا کہ قرآن کریم ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اس کی پیروی اُسی وقت کی جا سکتی ہے جب قرآن کریم آتا ہو اور پھر یہ کہ قرآن کریم کا ترجمہ بھی آنا چاہئے تا کہ معلوم ہو کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کن باتوں کے کرنے کا حکم دیا ہے اور کن باتوں کو کرنے سے روکا گیا ہے۔قرآن کریم کی محبت اس وقت تک پیدا نہیں ہوسکتی جب تک اسے پڑھا اور سمجھا نہ جائے۔آپ نے فرمایا :۔اگر ہم چاہتی ہیں کہ ہم ترقی کریں تو ہمیں قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنا ہوگا اور سب احمدیوں کا مقصد یہی ہے کہ اسلام ساری دنیا میں پھیل جائے۔آپ نے تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا اور فرمایا کہ ہمارا قول اور فعل ایک ہونا چاہئے۔اس میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔آپ نے فرمایا کہ اپنی زندگیوں کو قرآن کریم کی تعلیم اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔آپ نے مزید فرمایا کہ اسلام کو زندہ رکھنے اور اپنی روحانی ترقی کے لئے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اپنے بچوں میں خدا تعالیٰ کا پیار اور مذہب سے محبت پیدا کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت پیدا کریں۔مذہب کی غیرت پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے محبت پیدا کریں۔خلفاء کے احکام پر چلنے کا شوق اور جذ بہ پیدا کریں۔یہ کام بچپن سے کریں بڑے ہونے پر بچوں کی اصلاح مشکل ہو جاتی ہے۔