خطابات مریم (جلد دوم) — Page 865
خطابات مریم 865 پیغامات میری بہنو اور بچیو! بسم الله الرحمن الرحيم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 29 / اکتوبر کو آپ اپنا جلسہ سالانہ منعقد کر رہی ہیں اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو کامیاب کرے با برکت کرے اس میں شامل ہونے والیوں کی زندگی میں انقلاب بر پا کرے اور روحانی انقلاب جس کو بر پا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے تھے آج دنیا اپنی بداعمالیوں اور خدا تعالیٰ کے احکام پر نہ چلنے کے باعث ایک جہنم میں پڑی ہوئی ہے نہ کوئی امن ہے، نہ محبت اور پیار۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک نئی زمین اور نیا آسمان بنانے کے لئے مبعوث فرمایا یعنی آپ کے ذریعہ سے ایک مثالی معاشرہ کا قیام ہو احمدیت قبول کرنے والوں کی زندگیوں میں ایک انقلاب آ جائے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل کر کے اس کی رضا حاصل کرنے والے ہوں اور اس کے بندوں کے ہمدرد اور بہی خواہ ہوں اور اللہ تعالیٰ کے رحم کا مورد ٹھہریں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَهَذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الانعام : 156) ترجمہ: اور یہ قرآن ایسی کتاب ہے جسے ہم نے اُتارا ہے اور یہ برکت والی ہے پس اسی کی پیروی کرو اور تقویٰ اختیار کرو کہ تم پر رحم کیا جائے۔یہ آیت بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رحم حاصل کرنے کے لئے دو باتیں ضروری ہیں اول قرآن مجید کی پیروی کرنا اس کے احکام پر چلنا۔دوم تقویٰ اختیار کرنا۔پس ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا ہماری زندگیاں قرآن کی تعلیم کے مطابق ہیں یا نہیں؟ دوسرے تقوی اختیار کرنا بھی ہر بُرائی سے اپنے کو محفوظ رکھنا ہے تا اس کے نتیجہ میں نیکی میں ترقی کریں۔قرآن مجید کی مکمل اتباع آپ اسی وقت کر سکتی ہیں جب اسوہ محمدی کو اختیار کریں کیونکہ آپ کی ذات قرآن مجید کی تعلیم کا نمونہ تھی۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔