خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 64 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 64

خطابات مریم 64 تحریرات پا لیا، میں نے پا لیا اس سفر میں میں ، نواب مبارکہ بیگم اور امۃ القیوم آپ کے ساتھ تھیں۔حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم سے بھی بہت محبت تھی وہ چونکہ چھوٹی ہیں اس لئے ان سے بالکل چھوٹی بہنوں والا پیار تھا۔لیکن ان کی ذراسی تکلیف برداشت نہیں تھی مجھے آج بھی وہ نظارہ یاد ہے کہ ان کے آپریشن کا معلوم ہوا ہم لاہور گئے آپریشن ہو گیا تو واپس آگئے۔واپس آتے ہی علم ہوا کہ پھر دوبارہ طبیعت خراب ہو گئی ہے ساری رات بے چین رہے سو نہ سکے اور صبح ہوتے ہی لا ہور روانہ ہوئے اور جب تک طبیعت نہ سنبھلی وہیں رہے۔1947 ء میں ہجرت کے بعد قادیان سے لاہور پہنچے ایک ہی مکان میں سارا خاندان ٹھہرا ہوا تھا۔اس وقت آپ نے سارے خاندان کے اخراجات کا بوجھ اُٹھایا اور جب تک حالات بہتر نہ ہوئے سب کا کھانا اکٹھا رہا لیکن انتہائی سادہ۔فی کس ایک روٹی اور ایک وقت سالن اور ایک وقت دال۔خود تو نصف روٹی بھی نہ کھاتے تھے۔وہ بھی کسی بچہ کو جسے زیادہ بھوک لگی ہو دے دیتے تھے۔اللہ تعالیٰ کا مجھ پر بڑا احسان ہے کہ جب یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب خاندان حضرت بانی سلسلہ کی مستورات کو لاہور بھجوا دیا جائے اور حضور خود قادیان ٹھہرے تو مجھے حضور کے ساتھ ٹھہرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔میرے علاوہ صاحبزادی منصورہ بیگم بھی پیچھے ٹھہریں تھیں۔حضرت فضل عمر نے خرچ کی رقم ان کو دے دی کہ وہ کھانے کا انتظام کریں اور میں حضور کے ساتھ کام میں لگی رہتی تھی ان دنوں ہر وقت اِدھر اُدھر سے اطلاعات کے فون آتے تھے۔آدھی رات حضور جاگتے تھے پھر مجھے جگا دیتے اور آپ آرام فرما لیتے۔1955 ء سے حضور کی بیماری کا آغاز ہوا گو کمزوری ایک سال قبل جب 1954ء میں ایک بد بخت نے حضور پر قاتلانہ حملہ کیا تھا شروع ہوگئی تھی سارا گھر پریشان ، ساری جماعت غم زدہ لیکن حضور ایک ایک کو تسلی دیتے تھے کہ فکر نہ کرو میں ٹھیک ہوں۔1955ء سے تو پھر میری ساری توجہ صرف آپ کی طرف ہوگئی۔ڈاک سنانی ، جواب لکھنے ، آپ کی تیمار داری وغیرہ وقت ہی کسی اور کام کے لئے نہیں ملتا تھا۔اسی بیماری میں ہی آپ نے تفسیر صغیر لکھوائی۔ہر وقت فکر تھی کہ جلد مکمل ہو کبھی مجھ سے املا کرواتے تھے پھر مولوی یعقوب صاحب کو مسودہ صاف کرنے کیلئے