خطابات مریم (جلد دوم) — Page 845
خطابات مریم 845 پیغامات گیا کیوں؟ محض اس لئے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو شناخت کر لیا اور وہ دولت حاصل کر لی جس کے سامنے سب دولتیں بیچ ہیں۔انہوں نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ نے ہر اُس ہاتھ کو کاٹ دیا جو آپ کی طرف بڑھا اور ہر وہ سر جو تکبر سے آپ کے خلاف اُٹھا اسے جھکا دیا گیا۔تاریخ احمدیت ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔قدم قدم پر نشانات ظاہر ہوئے جو آپ کی روحانی فتح تھی خداتعالی کی نصرت اور پیار سے آپ نے اللہ تعالیٰ سے تعلق کو ظاہر کیا اور آپ کے ماننے والوں نے بھی آپ کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کو شناخت کیا۔آج انہی برکات اور نصرت الہی کا ظہور خلافت جماعت احمدیہ کے ذریعہ سے جاری ہے احمد یہ جماعت نے ایک سو سال لگا تار نشانات دیکھے ہیں اور نصرت الہی کے نظارے کئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنے اور نصرت حاصل کرنے کا بھی تقاضا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کا حکم مانیں اور اس کی مکمل اطاعت کریں جیسا کہ خود قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ لا (البقرة:187) اور اے رسول ! جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو ( تو جواب دے کہ ) میں (ان کے ) پاس (ہی) ہوں جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اُس کی دعا قبول کرتا ہوں سو چاہئے کہ وہ ( دعا کرنے والے ہیں ) میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا وہ ہدایت پائیں۔اس میں یہی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعاضر ورسنتا ہے مگر اس کی جو اس کے حکموں پر چلتا ہے اور اس پر ایمان لاتا ہے۔یعنی دل سے اللہ تعالیٰ کی ہر صفت پر ایمان اور یقین رکھتا ہے اور اس کی نظر کبھی غیر اللہ کی طرف نہ اُٹھتی ہو۔تمہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے تعلق ہو جو بغیر مکمل اطاعت اور کامل فرمانبرداری کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنی محبت کے حصول کا یہ طریق بیان فرماتا ہے۔قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ