خطابات مریم (جلد دوم) — Page 816
خطابات مریم 816 پیغامات۔اُن پر کھولے جائیں گے“۔(روحانی خزائن جلد 20 رسالہ الوصیت صفحہ 309) اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مامور فر مایا آپ اکیلے تھے اور مذکورہ بالا بشارت کے مطابق آج وہ کا رواں بڑھ چکا ہے اور دنیا کے 117 ممالک میں احمدی جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔گزری ہوئی صدی میں جماعت احمدیہ پر بے شمار مصائب بھی آئے لیکن الہی نصرت شامل حال رہی اور ہر فتنہ اور تکلیف کے بعد برکتوں کے دروازے ان پر کھولے گئے۔ہمارا خدا سچا خدا ہے دیکھنا یہ ہے کہ کیا جو ہم نے اس سے عہد کئے ہیں ہم بھی ان میں سچے ہیں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بیعت لینے کا ارشاد ہوا تو آپ نے یکم دسمبر 1888ء کو ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں آپ نے بیعت کے لئے دس شرائط بیان فرمائیں۔یہی دس شرائط ہمارا دستور العمل ہیں اور ان پر عمل کرنے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ” میں انہیں اُن کے غیروں پر قیامت تک فوقیت دوں گا اور برکت اور رحمت اُن کے شامل حال رہے گی۔ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا ہم تو حید کے اس اعلیٰ مقام پر قائم ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے کیا ہم نے تمام بُرائیاں بیعت کرنے کے بعد چھوڑی ہیں۔جھوٹ ، فسق فجور، ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے ہر طریق کو ہم نے چھوڑ دیا ہے۔پانچ وقت نماز پابندی سے پڑھتے ہیں اور حتی الوسع نماز تہجد کی ادائیگی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے اور استغفار کرنے میں باقاعدہ ہیں ہمارے ہاتھ یا زبان یا کسی طریق سے بھی مخلوق کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً کوئی تکلیف تو نہیں پہنچتی۔خوشی میں بھی اور تنگی میں سکھ میں بھی اور دکھ میں بھی ہم اللہ تعالیٰ کا دامن تو نہیں چھوڑ دیتے۔کیا ہمارا عمل قرآن کریم کے احکام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق ہے ہم میں تکبر اور رعونت تو نہیں اور کیا ہم عاجزی اور مسکینی کی زندگی کی راہیں اختیار کرتے ہیں ہر ایک سے خوشی خلقی سے پیش آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے تمام وہ حق جو ہمارے ذمہ ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمائے ہیں ہم ادا کرتے ہیں بنی نوع انسان کی ہمدردی ہمارے دلوں میں بھری ہوئی ہے کیا ہم ہر ایک سے