خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 59 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 59

خطابات مریم 59 حضرت فضل عمر کی اہلی زندگی کی ایک جھلک تحریرات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کے لئے ایک نمونہ بنا کر بھیجا۔اسی طرح آپ کے غلاموں میں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑا کیا ان کو بھی نمونہ بنایا اور انہوں نے زندگی کے ہر پہلو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ پر چلنے کی کوشش کی۔اہلی زندگی میں عورت سب سے زیادہ مرد کے قریب ہوتی ہے۔حضرت فضل عمر نے بھی سات شادیاں کیں۔ایک سے زیادہ بیویوں کو رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دیکھا جائے تو زندگی گزارنا بہت مشکل امر ہے۔آپ کی ہر شادی اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت کے ماتحت ہوئی اور آپ نے انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیا۔میری پیدائش 7 / اکتوبر 1918 ء کو ہوئی۔بظاہر ممکن نہیں نظر آتا تھا کہ آپ سے میری شادی ہوگی۔حضرت اماں جان سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ ) کہا کرتی تھیں کہ میری خواہش ہے کہ میرے بھائی کے بیٹی ہو تو میں محمود کے لئے لوں لیکن حضرت ابا جان ( میر محمد اسماعیل صاحب) کی پہلی بیوی سے کوئی اولا د نہیں ہوئی پھر ۱۹۱۷ء میں ابا جان نے دوسری شادی کی جس سے اولاد ہوئی ابا جان نے میری پیدائش پر میرا تاریخی نام نکالا تو نذر الہی نکلا اور میں چھوٹی ہی تھی کہ ایک موقع پر انہوں نے مجھے وقف بھی کر دیا۔میری پیدائش بھی کمزور تھی ہم جوڑا بہنیں پیدا ہوئی تھیں۔میرا نام ابا جان نے مریم اور دوسری کا صدیقہ رکھا تھا جوڈھائی ماہ کی ہو کر وفات پاگئی اور یہ پورا نام ابا جان نے میرا رکھ دیا۔اللہ تعالیٰ نے ابا جان کی دعاؤں اور قربانی کو قبول فرما لیا اور میری شادی 30 ستمبر 1935 ء کو جب کہ میں ابھی بارہویں جماعت میں پڑھ رہی تھی ہو گئی۔میں ابھی سترہ سال کی بھی پوری نہیں ہوئی تھی اور یہ عمر ایسی نہیں تھی کہ میں اُن ذمہ داریوں کو اُٹھا سکتی جو ایک امام جماعت کے ساتھ شادی ہونے سے مجھ پر عائد ہوئی تھیں اور ایک بڑے گھرانہ میں جہاں پہلے