خطابات مریم (جلد دوم) — Page 58
خطابات مریم 58 تحریرات دن بدن گر رہی تھی۔آخر اپنی بیٹی کو ان کے پاس چھوڑ کر آپ ربوہ آ گئیں اور حضرت اماں جان کی خدمت کرتی رہیں۔حضرت اماں جان کی وفات اور تدفین کے اگلے روز آپ لاہور واپس چلی گئیں۔حقیقت یہ ہے کہ میری تو تربیت ہی میرے سسرال میں ہوئی اور حضرت اماں جان کی ذاتی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت سیدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ سے بہت کچھ سیکھا۔آپ بہت وسیع القلب ، بہت خوش اخلاق اور بہت وسیع النظر تھیں۔ایک دفعه بعض غلط فہمیوں کی بناء پر میرے اور میرے ایک عزیز کے درمیان کچھ کشیدگی ہو گئی۔آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اپنی خدا دادفراست سے کام لیتے ہوئے وہ کشیدگی فوراً دور کروا دی۔آپ میں برداشت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ نے اپنے شوہر اور داماد کی المناک وفات کے دو بڑے صدمے زندگی میں برداشت کئے جس سے آپ کی صحت دن بدن گرتی چلی گئی۔خاندان حضرت بانی سلسلہ کی بنیاد جن ستونوں پر رکھی گئی آپ کا وجود ان میں سے آخری ستون تھا۔گلشن احمد کے یہ پھول اپنی اپنی مہک دکھلا کر رخصت ہو گئے۔اب ہم سب نے اِس مہک کو سدا قائم رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کی روح پر اپنے بے شمار فضل نازل کرے اور ہمیں اپنی۔ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ماہنامہ مصباح جنوری 1988ء) ☆۔