خطابات مریم (جلد دوم) — Page 55
خطابات مریم 55 55 تحریرات آپ کا نکاح حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب سے 17 جون 1915ء کو حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی مرحوم نے پڑھا اور 22 فروری 1917ء کو آپ کے رخصتانہ کی تقریب عمل میں آئی۔اللہ تعالیٰ نے بے حد محبت کرنے والا قدر شناس خاوند اور سعادت مند اولا د عطا فرمائی۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے بار ہا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت بانی سلسلہ کی بیٹیوں کے زمین سنبھالنے کی وجہ سے میری آمد میں برکت ڈالی ہے ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا۔” میرا دل چاہتا ہے کہ جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کی خاطر قربان ہو جائے۔۔۔در اصل عملی طور سے ہے بھی یہی۔میں اپنے آپ کو حضرت صاحب کی دو بیٹیوں کا خادم سمجھتا ہوں۔میری ساری کوشش اور محنت صرف اس لئے ہے کہ اُس پاک وجود کے جگر پارے آرام پائیں جن میں سے ایک کو اس نے میرے والد اور ایک کو میرے سپرد کیا ہے“۔(اصحاب احمد جلد 12 صفحہ 66) اپنی سب سے بڑی بیٹی عزیزہ طیبہ بیگم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی شادی پر آپ نے اپنی بیٹی کو نصائح کرتے ہوئے تحریر فرمایا :۔تمہاری امی اس معاملہ میں بہترین نمونہ ہیں تم نے خود دیکھا کہ کس قدر تنگی انہوں نے میرے ساتھ اُٹھائی لیکن اس کو نہایت وفا اور محبت کے ساتھ گزار دیا۔مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر تم بھی اپنی امی کی طرز اختیار کرو وہ تمہارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔(اصحاب احمد جلد 12 صفحہ 50) حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب دل کے شدید حملہ سے ایک لمبا عرصہ بیمار رہے۔آپ کی بیماری میں حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے بے مثال خدمت کا نمونہ دکھایا۔اسی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا۔یہاں اگر اپنی بیوی حضرت ذختِ کرام امتہ الحفیظ بیگم کا ذکر نہ کروں تو نہایت ناشکری اور ظلم ہوگا۔یہ نور کا ٹکڑا حضرت صاحب کا جگر گوشہ کسی خدمت اور کس