خطابات مریم (جلد دوم) — Page 53
خطابات مریم 33 53 تحریرات میری پیاری بہن حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اس سال جماعت احمدیہ کو اور بالخصوص مستورات کو جو المناک صدمہ پہنچا وہ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ کا وصال ہے جو اچانک 6 رمئی 1987 ء کو ہوا۔آپ حضرت بانی سلسلہ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں۔حضرت بانی سلسلہ کو مئی 1904ء میں الہام ہوا۔” ذختِ کرام“۔چنانچہ اس الہی بشارت کے مطابق حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ 25 / جون 1904ء کو پیدا ہوئیں۔حقیقۃ الوحی صفحہ 208 پر حضرت بانی سلسلہ نے آپ کی پیدائش کو اپنی صداقت کا چالیسواں نشان قرار دیا ہے۔کرام کریم کی جمع ہے جس کے معنی ہیں صاحب عزت، صاحب مرتبہ بھی لوگ۔حضرت بانی سلسلہ کی ساری اولا د آپ کی صداقت کا عظیم الشان نشان تھی اور ہر ایک کے متعلق جو آپ کو خبر دی گئی وہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ پوری ہوئی جب حضرت بانی سلسلہ کا وصال ہوا اس وقت آپ کے سبھی بچے چھوٹے تھے۔حضرت فضل عمر ۱۹ سال کے اور حضرت سیده امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ صرف چار سال کی۔کون دعویٰ سے اپنی اولاد کے متعلق کہہ سکتا ہے کہ میری اولا دایسی ہوگی ؟ سوائے ان کے جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بشارت دی گئی ہو چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ آپ کی ساری اولاد کے متعلق وہ تمام پیشگوئیاں جو آپ نے کی تھیں نہایت شان وشوکت کے ساتھ پوری ہوئیں۔باوجود اس کے کہ حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ نے حضرت بانی سلسلہ سے کوئی تربیت حاصل نہیں کی بلکہ آپ اتنی چھوٹی تھیں کہ کوئی بات بھی یاد نہیں رہی۔پھر بھی آپ کی شخصیت میں وہ تمام خوبیاں نمایاں طور پر اُبھریں جن کی حضرت بانی سلسلہ کو آپ کی ولادت سے قبل خبر دی گئی تھی۔حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے اپنے بیٹوں میں سے حضرت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب کیلئے آپ کا انتخاب کیا اس سلسلہ میں حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نے حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب