خطابات مریم (جلد دوم) — Page 44
خطابات مریم 44 تحریرات دین کا ناصر پیارے ہو تم جانتے ہو کہ تشی کا یہ پر چہ حضرت خلیفتہ امیج الثالث تعالی کی یاد میں شائع کیا جا رہا ہے۔آپ کی معلومات کے لیے چند سطر میں لکھ کر بھجوار ہی ہوں۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث تعالیٰ کا نام مرزا ناصر احمد تھا۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے پوتے تھے اور حضرت مصلح موعود کے سب سے بڑے بیٹے۔حضرت مصلح موعود نے قرآن مجید ناظرہ پڑھوانے کے بعد آپ کو قرآن مجید حفظ کروانا شروع کیا۔ساتھ ساتھ دوسری تعلیم بھی ہوتی گئی۔جب تک آپ قرآن مجید حفظ کرتے رہے، دوسری تعلیم کی طرف زیادہ توجہ نہ دی گئی۔پھر آپ کو مدرسہ احمدیہ میں داخل کروایا گیا تا کہ آپ دینی تعلیم حاصل کریں۔مدرسہ احمدیہ جس کی تعلیم دینی سکول کے برابر تھی مکمل کر کے آپ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اعلیٰ نمبروں سے مولوی فاضل کیا پھر حضرت مصلح موعود نے انگریزی تعلیم حاصل کرنے کا ارشاد فرمایا۔میٹرک ، ایف اے ، بی اے کر کے آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ایم اے کیا اور تعلیم کے بعد اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا یوں تو حضرت مصلح موعود نے اپنی ساری اولا د کو ہی وقف کیا ہوا تھا لیکن اصل وقف وہ ہوتا ہے جو بچہ خود سوچ سمجھ کر کرے کہ میں نے دین کو دنیا پر مقدم کرنا ہے۔جب حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے اپنے ابا جان یعنی حضرت مصلح موعود کو لکھا کہ میں زندگی وقف کرتا ہوں تو آپ بہت خوش ہوئے اور آپ کو لکھا کہ میری تو شروع سے نیت تھی مگر میں اس انتظار میں تھا کہ تم خود وقف کرو اور ایک خط میں بہت خوشی کا اظہار کیا۔جب آپ انگلستان سے تعلیم حاصل کر کے آئے تو حضرت مصلح موعود نے آپ کو جامعہ احمدیہ میں پڑھانے پر لگایا اور آپ نے آتے ہی کام شروع کر دیا بعد میں کالج کا پرنسپل مقرر کر دیا اور ہر جگہ آپ نے اطاعت امام کا بے نظیر نمونہ دکھایا جب آپ کالج کے پرنسپل تھے آپ نے کالج