خطابات مریم (جلد دوم) — Page 653
خطابات مریم 653 پیغام برائے لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ 1980ء بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ میری عزیز بہنو ممبرات لجنہ اماءاللہ سیالکوٹ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه پیغامات سیالکوٹ ان شہروں میں سے ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنا دوسرا وطن قرار دیا ہے۔سیالکوٹ کی لجنہ ابتداء سے ہی بہت مستعد، بیدار اور قربانی دینے والی رہی ہے۔جس کا سہرا سیدہ فضیلت بیگم صاحبہ مرحومہ کے سر تھا۔حضرت مصلح موعود نے اپنی کئی تقاریر میں قادیان اور دوسرے شہروں کی مستورات کو سیالکوٹ کی احمدی خواتین کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین فرمائی۔لیکن اب ایک عرصہ سے سیالکوٹ کی لجنہ اپنے سابقہ مقام سے بہت دور جا چکی ہے اور سرفہرست لجنات میں اس کا شمار نہیں رہا جس کی یقینی وجہ نمبرات کی سستی ہے۔نمایاں کام وہی لجنہ کر سکتی ہے جسے عہدیداروں کا، تمام مہرات کا تعاون حاصل ہوا اور عہد یدار اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ممبرات میں روح پھونکنے والی ہوں۔میری بہنو! جیسا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث ایدہ اللہ تعالیٰ تمام جماعت کو اس طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس کے استقبال کی تیاری میں ہر احمدی مرد عورت اور بچہ کو لگ جانا چاہئے۔ہمیں بھی اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ہم تو ایک کام کرتے ہیں منزل کے قریب پہنچتے ہیں پھر نئے سرے سے وہ کام شروع کرتے ہیں۔نہ ہماری عورتوں میں دینی تعلیم کا وہ معیار ہے جو ہونا چاہئے نہ تربیتی لحاظ سے وہ اعلیٰ درجہ کے معیار پر قائم ہیں۔اگر آپ میں دینی جوش نہ ہوگا آپ کے بچوں میں کیسے پیدا ہو گا۔اگر آپ میں قربانی کا جذ بہ نہ ہو گا وہ اپنے وقت پر کیسے قربانی کریں گے۔پس میری عزیز بہنو اور بچیو! اپنے عمل اور اپنے کردار اور اپنی قربانیوں سے یہ ثابت کرو کہ تم ایک زندہ قوم کی خواتین ہو اور تم میں وہی جذبہ موجود ہے جو چودہ سو سال پہلے کی مسلمان خواتین میں تھا۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔والسلام۔خاکسار۔مریم صدیقہ ( رجسٹر رپورٹ 1980ء)