خطابات مریم (جلد دوم) — Page 42
خطابات مریم 42 تحریرات قاضی محمد نذیر صاحب جمعہ پڑھا دیں۔وفات سے دو تین دن پہلے جمعہ تھا۔مؤذن پوچھنے آیا تو آپ نے فرمایا ناصر احمد مجھے اس وقت تعجب ہوا کہ اس سے پہلے مجھے یاد نہیں کبھی کہا ہو۔دوبارہ پوچھا تو پھر یہی کہا کہ ناصر احمد۔دفتر کا آدمی اطلاع دینے گیا تو حضرت مرزا ناصر احمد جمعہ پر جانے کے لئے تیار ہو رہے تھے۔خیال بھی نہ تھا کہ جمعہ پڑھانا پڑے گا حکم کی تعمیل کی۔یہ بھی یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ تھا کہ آئندہ خلافت کی ذمہ داریاں ان پر پڑنے والی ہیں۔بیرونی ممالک کے سات دورے کئے۔دورہ کی جو رپورٹیں ان ملکوں کے اخباروں میں چھپتیں ضرور ایک دو اخباروں کے تراشے اپنے خط کے ساتھ بھیجتے۔دورہ میں شدید مصروفیت کی وجہ سے مجھے توقع بھی نہ ہوتی تھی کہ خط لکھنے کے لئے وقت نکال سکیں گے لیکن ہر سفر میں چند خطوط ضرور مجھے ملتے تھے جو خوشی اور مسرت کا باعث بنتے تھے۔فرخ کے نام بھی ضرور ایک آدھ کا رڈ آ جا تا تھا۔اپنے بھائیوں اور بہنوں کی اولاد سے بہت محبت کی۔ہر ایک سمجھتا ہے کہ ہم سے ہی سب سے زیادہ پیار تھا۔اسی طرح چا زاد اور پھوپھی زاد بہن بھائیوں سے بھی۔حضرت سیدہ اُمّم مظفر احمد کی وفات کے بعد ان کی اولا د کو بہت ہی شفقت دی۔بہت مہمان نواز تھے۔جب کالج کے پرنسپل تھے اور خدام الاحمدیہ کے صدر مجھے یاد ہے ان کے گھر خدام کی میٹنگیں ہوتیں۔وقت بے وقت چائے کھانے کا خیال رکھنا۔گرمیوں میں ڈلہوزی یا کسی اور پہاڑی مقام پر جانا تو چند خدام کو اس غرض سے ضرور ساتھ رکھا کرتے تھے کہ یہ لوگ جو پہاڑ پر نہیں آسکتے سیر و تفریح کر لیں۔سب خرچ ان کا اُٹھاتے تھے۔آپ نہایت بلند اخلاق تھے مگر ایک خوبی کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتی وہ تھی آپ کی خود داری۔حضرت مصلح موعود تربیت کے نقطہ نظر سے اپنے سب ہی بچوں کو اتنا ہی خرچ دیا کرتے تھے کہ بس تنگی سے گزارہ ہوتا تھا۔آپ پر بھی کئی دفعہ تنگی آئی لیکن کبھی آپ نے اپنے ابا جان سے نہیں مانگا دوسرے کئی بچے اپنی ضرورت کا اظہار کر دیتے تھے خود حضرت مصلح موعود کو علم ہوتا تو آپ نے ضرورت کے مطابق کچھ بھجوا دینا۔خلیفہ ہونے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت دیا مگر اس کا اکثر حصہ غرباء پر خرچ کر دیتے تھے۔مجھے ذاتی طور پر علم ہے کہ غریبوں اور