خطابات مریم (جلد دوم) — Page 611
خطابات مریم 611 پیغامات پیغام برائے سالانہ اجتماع ناصرات الاحمدیہ۔قادیان 1973ء السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُه اللہ تعالیٰ تمہارا یہ سالانہ اجتماع مبارک کرے۔بچیوں کو میری پہلی نصیحت یہ ہے کہ وہ اپنے اوقات کو ضائع نہ کریں۔کھیلنے کے لئے سارا سال ہے اس تھوڑے سے وقت میں اپنی عمر اور اپنی ذہانت کے مطابق فائدہ اُٹھاؤ۔پروگراموں کو توجہ سے سننے کی کوشش کرو۔اگر سنجیدگی اور توجہ سے پروگراموں کو سنو گی تو بہت کچھ حاصل کر سکو گی۔اجتماع ہو یا کھیل کا میدان۔سنجیدگی وقار اور اخلاق کا ہر قدم پر مظاہرہ کرو۔کوئی غیر سنجیدہ بات کوئی وقار سے گرا ہوا فعل ناصرات الاحمد یہ کی شان کے شایاں نہیں۔یہ یا درکھو کہ آج بے شک تم بچیاں ہو لیکن آئندہ قوم کا مستقبل تم سے وابستہ ہے۔یہ سیکھنے کی عمر ہے یاد رکھنے کی عمر ہے ، اللہ تعالیٰ کا تم پر یہ عظیم الشان انعام ہے کہ تمہیں احمدی گھرانوں میں پیدا کیا۔اسلام جیسی نعمت تمہیں عطا فرمائی۔مسیحائے زمان کی جماعت سے تمہیں وابستہ کیا بے شک تم احمدی بچیاں ہونا صرات ہو لیکن حقیقت میں ناصرات الاحمدیہ نام کی مستحق تب کہلا سکتی ہو جب اپنے عمل ، اپنے کردار، اپنے اخلاق ، اپنی زندگی اور اپنی قربانیوں سے اس بات کا ثبوت دو گی کہ تم واقعی ناصرات الاحمدیہ ہو۔تم نے اسلامی تاریخ کے واقعات سنے ہونگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ابو جہل تھا جنگ بدر میں اس کو دو بچوں نے قتل کیا تھا جو بارہ بارہ سال کے تھے کسی جذبہ نے ان کو ابو جہل کے قتل پر اکسایا ؟ صرف اسلام کی محبت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق نے۔پس ایسا ہی ایمان اور ایسا ہی عشق تمہارے اندر ہونا چاہئے۔عشق اور محبت گہرے تعلق سے پیدا ہوتا ہے تمہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے ا