خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 38 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 38

خطابات مریم 38 88 تحریرات امن سے بدلا اور اسی پیارے سلوک کا مظاہرہ اس بار بھی ہوا۔ناصر جیسا پیارا وجود اگر اس کی عمیق در عمیق حکمتوں کے باعث اس نے اپنے پاس بلا لیا تو ایک اور پیارا وجود طاہر کی شکل میں جماعت کو عطا کر دیا۔الحمد للہ ثم الحمد للہ نوید احمد و تنویر محمود موعود این موعود ابن موعود ( نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) احسان و مروّت کا سراپا ، عاجزی و انکساری کا مجسمہ، سادگی کا پیکر ، محبت کا ایک رواں چشمہ طبیعت میں مزاح ، نرمی ، حلیمی اور خودداری ، حوادث کے مقابلہ میں کوہ وقار، خود مسکرا کر دنیا کو مسکرانا سکھایا، انتہائی صابر و شاکر وجود۔یہ تھے مرزا ناصر احمد جو حضرت اقدس کی پیشگوئیوں تری نسلاً بعیدا“ بھی دکھا دی اور نافلۃ لک“ کے مطابق ایک موعود و جود تھے۔میرا بچپن حضرت ابا جان ( ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب) کی ملازمت کی وجہ سے قادیان سے باہر ہی گزرا لیکن چھٹی لے کر کبھی جلسہ سالانہ پر کبھی اور دنوں میں سال میں ایک مرتبہ ابا جان ضرور قادیان آیا کرتے تھے اور حضرت اماں جان کے پاس قیام ہوتا تھا۔ایک دفعہ لمبے عرصہ کے لئے قادیان میں اس مکان میں رہے جس میں بعد میں حضرت سیدہ اُم طاہر رہا کرتی تھیں۔اس وقت پہلی بار حضرت مرزا ناصر احمد کو حضرت اماں جان کے گھر دیکھا اور یہی سمجھا کہ حضرت اماں جان کے بیٹے ہیں۔ذرا بڑی ہوئی تو معلوم ہوا کہ بیٹے نہیں پوتے ہیں لیکن اماں جان کی آغوش محبت میں پلے ہیں اور آپ کے پاس ہی رہتے ہیں۔پھر کئی سال گزر گئے اور ہم 1934ء میں حضرت مرزا ناصر احمد کی شادی پر قادیان آئے۔عمر میں مجھ سے بڑے تھے مگر جب کبھی ملنا ہوتا تو ہمیشہ پھوپھی کہہ کر ہم سب بہنوں سے مخاطب ہوتے۔1934 ء میں شادی کے ایک ماہ بعد آپ تعلیم کیلئے انگلستان چلے گئے اور 1935ء میں میری شادی ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بھتیجے سے میرا بیٹا بنا دیا۔1936ء میں عارضی طور پر انگلستان سے واپس آئے۔ان دنوں حضرت مصلح موعود دھر مسالہ مقیم تھے۔حضور نے آپ کو اور منصورہ بیگم مرحومہ کو اپنے پاس بلا لیا اور قریباً ڈیڑھ دو ماہ آپ ہمارے ساتھ رہے۔