خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 37 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 37

خطابات مریم 37 تحریرات حضرت مرزا ناصر احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نور الله مَرْقَدَهُ مرا ناصر میرا فرزند اکبر ملا ہے جس کو حق سے تاج و افسر ( حضرت مصلح موعود ) حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ اور حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم کے پہلے پوتے ، حضرت مصلح موعود کے سب سے بڑے بیٹے ، قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر حضرت مرزا ناصر احمد 15 نومبر 1909ء کو پیدا ہوئے اور 9 جون 1982ء کو اس دارِ فانی کو چھوڑ کر اپنے رب کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون وہ وقت جس کے تصور سے اب بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اتنا اچا نک آیا کہ عقل وشعور نے بھی ساتھ چھوڑ دیا۔ایک زلزلہ تھا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔بس ایک ہی سوال تھا چہروں پر کہ یہ کیا ہو گیا ؟ لیکن اپنے آقا کے دیئے ہوئے سبق اور تربیت کی وجہ سے بڑا ، چھوٹا ، مرد، ت سب اپنے رب کی رضا پر راضی اور اس کی تقدیر پر شاکر اور اس کی عنایتوں کے امیدوار تھے چنانچہ اس انتہائی صدمہ کے بعد خلافت رابعہ کے انتخاب سے ان دلوں کو جو حضرت خلیفة المسیح الثالث کے وصال سے پریشان تھے غمگین تھے اللہ تعالیٰ نے سکون عطا فرمایا۔اچھی یاد میں کبھی بھلائی نہیں جاسکتیں پھر ایسے پیارے وجود کا بھولنا آسان کام نہیں۔ابھی تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا غم بھی نہیں بھولا تھا اُن کے لطف و احسان کی یاد تازہ تھی کہ جماعت پر اور اپنے خاندان پر ایک غم کا پہاڑ آ پڑا۔میرے مولا! اگر تیرا سہارا نہ ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہو جا تا کتنا پیارا ہے میرا رب جس نے حضرت مسیح الزمان کو دنیا کی اصلاح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کیلئے بھیجا اور اس مقصد عظیم کو مستقل طور پر جاری رکھنے کیلئے جماعت میں خلافت کا سلسلہ قائم کیا اور ہر خلیفہ کی وفات پر دوسری خلافت کے ذریعہ خوف کو