خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 590 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 590

خطابات مریم 590 خطابات والی سیکرٹریان نے اچھی طرح سنبھال لیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ساری ترقی کا انحصاران کی اکیلی ذات پر تھا۔یہ ایک خاکہ ہے انتہائی مختصر ان کے کاموں کا اس کے علاوہ ربوہ کی ساری خواتین کو تربیت اور تعلیم اور مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلانے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔جب سے ربوہ کی لجنہ الگ قائم ہوئی سوائے ایک دفعہ یا شاید دو دفعہ کے لجنہ ربوہ ہی قریباً ہر کام میں اول آتی رہی ہیں۔بے شک یہاں فاصلے کم ہیں جمع ہونا آسان ہے لیکن ہر روز اِدھر اُدھر سے نئے لوگ یہاں آ کر قیام کرتے ہیں۔ان پڑھ ، قرآن بھی نہیں پڑھا ہوتا۔اپنے دیہات سے مختلف رسوم و غیرہ ساتھ لاتے ہیں ان کی طرف توجہ دینا ان کی تربیت کرنا آسان کام نہیں اور جو حالات ۱۹۷۴ء میں پیدا ہوئے اور چلتے چلے آرہے ہیں نئی نئی پابندیاں لگتی جا رہی ہیں ان میں کام کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں۔دل کی گہرائیوں سے یہ دعا نکل رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت والی لمبی زندگی عطا کرے اور ربوہ کی بچیوں کو ان کی تقلید کی توفیق عطا کرے بہت قیمتی وجود ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پوتی اور حضرت فضل عمر کی بیٹی کا۔اللہ تعالیٰ ہر شر سے محفوظ رکھے اور خوشیاں عطا فرماتا رہے۔آج کی دعوت سے قبل صاحبزادی ناصرہ بیگم کے ساتھ ہی مجھے سیدہ مہر آپا کی خدمات کا بھی تذکرہ کرنا ہے۔عاجزہ 1944ء میں لجنہ اماء اللہ کی جنرل سیکرٹری مقرر ہوئی۔حضرت سیدہ اُم طاہر احمد کی وفات کے بعد اسی سال مہر آپا کی شادی ہوئی۔1945ء میں آپ نے لجنہ کا کام شروع کیا۔1945ء میں سب سے پہلے امتہ الحی لائبریری کی ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی۔1946ء میں نائب جنرل سیکرٹری مقرر ہوئیں۔1950ء میں خدمت خلق کا کام ان کے سپرد کیا گیا۔1951ء میں حلقہ خاص کے ٹکٹوں کا کام ربوہ آنے کے بعد آپ کے سپر د رہا اور 1966ء میں نائب صدر مقرر ہوئیں۔اس وقت سے باوجود بار بار بیمار ہونے کے اب تک جب کہ حضور کی طرف سے ان کا نام منظور نہیں ہوا آپ نائبہ صدر کے عہدہ پر سرفراز رہیں۔حضرت فضل عمر لمبا عرصہ بیمار رہے اور ہم میں سے ایک کا ان کے پاس رہنا ضروری ہوتا تھا۔اس لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ کسی جگہ ہم دونوں اکٹھے جاسکیں۔میں دفتر آتی یا دورہ پر جاتی یا کسی جلسہ میں شمولیت کرتی تو وہ گھر پر رہتیں۔وہ جاتیں تو میں رہتی۔ہر کام میں