خطابات مریم (جلد دوم) — Page 564
خطابات مریم 564 خطابات ، ، سے کام نہ لیا کرو۔ایک دوسرے کی عیب کی ٹوہ میں نہ رہا کرو۔اس کی بجائے پیارو محبت سے اصلاح کرو۔بجائے اس کے کہ اپنی ملنے جلنے والیوں کے عیوب پر نظر رکھو۔ان کی اچھائیاں ڈھونڈو اور جو خوبیاں ان میں ہیں ان کے ذریعہ ان سے کام لینے کی کوشش کرو۔اگر کسی میں ایک عیب ہے تو اس میں دس اچھی باتیں ضرور ہوتی ہیں۔ہماری نظر عیب پر تو پڑ جاتی ہے ان خوبیوں پر نہیں پڑتی۔احمدیت تو ایک روحانی انقلاب عظیم کا نام ہے ہمارا کام ہے اپنے میں بھی اعلیٰ اخلاق پیدا کریں۔وہ جن کا نمونہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا اور اپنی اگلی نسل میں بھی وہی اخلاق اور خوبیاں پیدا کریں۔اس سال جلسہ سالانہ کے موقع پر لندن میں حضور انور نے عورتوں سے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا کہ اپنے گھروں کی تعمیر نو کرو۔ان کو جنت بناؤ جس میں کوئی جھگڑا نہ ہو فساد نہ ہو۔رنجش نہ ہو، لڑائیاں نہ ہوں، طعن و تشنیع نہ ہوا اتنا سکون ہو گھروں میں کہ گھر ہی جنت بن جائے اور گھروں کو جنت بنانے میں سب سے بڑی ذمہ داری عورت کی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو نیک خدا پرست بنا کر اعلیٰ اخلاق ان میں پیدا کر کے قوم کے ستون بناسکتی ہیں وہ بھی ماؤں کی آنکھوں کے تارے ہی ہوتے ہیں جو کسی گاڑی یا بس میں بم رکھ دیتے ہیں کسی کو قتل کر دیتے ہیں کسی کے بچہ کو اغوا کر لیتے ہیں اور ان کی وجہ سے گھر دکھی ہو جاتے ہیں۔ان کی ماؤں نے ان کے دل میں بنی نوع انسان کی محبت اور ہمدردی نہیں پیدا کی اس کے برعکس وہ ایسے دوستوں کی صحبت میں پڑ گئے جو خود بھی تخریب کا ر ہوتے ہیں اور ان سے بھی کرواتے ہیں۔احمد یہ جماعت نے تو دنیا کے دل جیتنے ہیں اور یہ کام صرف اور صرف اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔مذہب کی مثال درخت سے دیتے ہوئے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں اور اس کا پھل برکاتِ روحانیہ اور نہایت لطیف محبت ہے جو رب اور اس کے بندہ کے درمیان پیدا ہو جاتی ہے۔پھل سب سے آخر میں لگا کرتا ہے جب انسان میں اخلاق فاضلہ پیدا ہو جاتے ہیں تو پھر پھل نکلتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اعلیٰ اخلاق کے نتیجہ میں پھر جو پھل لگتے ہیں وہ روحانی برکات ہوتی ہیں جو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل ہوتا ہے اس دنیا میں اسے لقاء حاصل ہوتی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کر لیتا ہے۔قرآن کریم میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔