خطابات مریم (جلد دوم)

by Other Authors

Page 33 of 988

خطابات مریم (جلد دوم) — Page 33

خطابات مریم 33 33 تحریرات پر کی اس میں خصوصیت سے نئی نسل کو ذکر الہی کثرت سے کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ہماری چچی جان مرحومہ (حضرت سیدہ اُم داؤ د صاحبہ ) فرمایا کرتی تھیں مجھے منصورہ کی یہ بات بہت پسند ہے کہ نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن کر خوب عطر لگا کر صاف جانماز بچھا کر نماز کیلئے کھڑی ہو جاتی ہے صدقہ کثرت سے دیا کرتی تھیں۔اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا مقام عطا فرمایا عزت دی لیکن کسی قسم کا تکبر یا ر یا نہیں پایا جاتا تھا۔جب حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خلیفہ یار ہوئے تو آئندہ ذمہ داریوں کے خیال سے آپ تقریباً بیمار پڑ گئیں اُٹھا ہی نہیں جاتا تھا بہت رو رو کر دعائیں کیں ان دنوں۔اور پھر ساری جماعت نے مشاہدہ کیا کہ وہ یکسر بدل گئیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں کے اُٹھانے کیلئے پوری طرح تیار کر لیا اور پوری طرح نبھایا۔بہت بلند حوصلہ تھیں، کوہ وقار تھیں اور ایثار مجسم۔حضرت مصلح موعود کے گھر کی سب سے بڑی بہو تھیں۔آپ ان پر بہت اعتماد کرتے تھے ہجرت کے بعد جب لاہور میں سب اکٹھے رہتے تھے آپ باہر تشریف لے جاتے تو گھر کا انتظام منصورہ بیگم کے سپر دہی کر جاتے۔حضرت مصلح موعود جب ربوہ مستقل طور پر تشریف لے آئے ابھی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کالج کی وجہ سے لاہور میں ہی قیام پذیر تھے آپ جب بھی لاہور جاتے تو ان کے پاس ہی قیام فرماتے اور وہ دل کھول کر سب کی مہمان نوازی کرتیں اور ہر ممکن خیال رکھتیں۔آپ کے اخلاق کا سب سے بڑا پہلو تو کل علی اللہ اورصبر ورضا کا پہلو تھا۔شادی ہوتے ہی ایک ماہ کے بعد حضرت مرزا ناصر احمد صاحب تعلیم کی خاطر انگلستان تشریف لے گئے۔ایک نئی نویلی دلہن کیلئے یہ جدائی بہت تکلیف دہ تھی لیکن آپ نے اس کا اظہار نہ ہونے دیا۔انس احمد کی پیدائش بھی آپ کی عدم موجودگی میں ہوئی۔عورت کے لئے یہ وقت بڑا کٹھن ہوتا ہے اور منصورہ بیگم کے بچے خاص طور پر انس احمد کی ولادت بہت مشکل سے ہوئی تھی۔اس موقعہ پر بھی آپ نے کسی قسم کی بے صبری کا اظہار نہ کیا۔سب سے زیادہ تسلی ان کو اپنے ماموں جان ( حضرت مصلح موعود) سے ہوتی تھی۔بس یہ خواہش کرتی تھیں کہ وہ قریب رہیں اور دعا کرتے رہیں۔1953ء میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے جماعت کی خاطر قید و بند کی تکلیف اُٹھائی