خطابات مریم (جلد دوم) — Page 547
خطابات مریم 547 خطابات نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کی ہے جو عشق آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ویسی محبت اور ویسی تعریف چودہ سو سال میں کسی نے نہیں کی۔ہماری نئی پود بسا اوقات ٹیلی ویژن پر مختلف پروگرام دیکھ کر ساری نہیں تو کوئی بد قسمتی سے ان سے متاثر ہو کر اس کی نقل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ان کو سمجھانا چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ تو ہم نے یہ سیکھا کہ کیا درست ہے اور کیا غلط ہے۔آپ نے جو بدعات رسول یا مذہب کے نام پر کی جاتی تھیں کو نکال کے باہر پھینک دیا۔اپنی روایات یعنی احمدیت کی روایات، جماعت کی روایات کو ہمیں قائم کرنا چاہئے۔احمدیت حقیقی اسلام کا دوسرا نام ہے، احمدیت اس روح کا نام ہے جو اسلام ایک مسلمان کے دل میں پیدا کرتا ہے ، اس عمل کا نام ہے جو ایک مسلمان کا صحیح عمل ہے جو نعمت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں ملی ہے اس کا شکر ادا کرنے کی یہی صورت ہے کہ ہمارا عمل صحیح ہو، ہمارا کردار ایک بچے احمدی کا کردار بنے ہم دوسرے کی نقالی سے بچیں۔ہم نے تو دوسروں کے لئے نمونہ بننا ہے، نمونہ بننا ہے ایمان کے لحاظ سے بھی۔ہمارا کوئی فعل تو حید کے خلاف نہیں ہونا چاہئے۔نمونہ بننا ہے عمل کے لحاظ سے ہمارا عمل اُسوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔نمونہ بننا ہے کردار کے لحاظ سے نمونہ بننا ہے اخلاق کے لحاظ سے ہمارے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے کہ (تلقین ) کچھ کریں اور ہمارا عمل کچھ ہو۔کہیں کچھ اور کر یں کچھ۔اس لئے ضروری ہے کہ ہر کام صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر نیک نیتی سے کیا جائے اسی میں برکت ہوتی ہے۔دین کو دنیا پر مقدم رکھا جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے سچا تعلق پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ انجمنیں قائم کرنا ، مدارس کھولنا ہی تائید دین کیلئے کافی ہے مگر وہ نہیں سمجھتے کہ دین کس چیز کا نام ہے اور اس ہماری ہستی کی انتہائی اغراض کیا ہیں اور کیونکر کن راہوں سے وہ اغراض حاصل ہوسکتی ہیں سو انہیں آیات کی جو تفسیر آپ نے کی ان پر عمل کرنا اور ان کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہمارا فرض ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب کتب قرآن کریم کی تفاسیر سے بھری پڑی ہیں یہ ایک نادر اور انمول خزانہ ہے کہ اگر نہ ہوتیں تو قرآن کریم کے مطالب بھی ہم پر حل نہ ہوتے۔اس سے فائدہ اُٹھانا ہر احمدی عورت اور بچی کا کام ہے۔ان کو پڑھ کر آپ کے دماغ اور دلوں میں نور بھرے گا۔بار بار