خطابات مریم (جلد دوم) — Page 546
خطابات مریم 546 خطابات فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ (آل عمران: 32) کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ دنیا کو بتا دیں اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرے پیچھے چلو۔میرے نقش قدم کو اختیار کرو، میری پیروی کرو جو میں کرتا ہوں وہ تم کرو تو پھر خدا تم سے خود پیار کرے گا۔یہ مشکل نہیں ہے اگر انسان کچی نیت کر لے کہ ہم نے اپنی زندگیاں اسی طرح گزارنی ہیں جس کا نمونہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی گزار کر اور زندگی کے ہر شعبہ میں کر کے دکھایا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس سلسلے میں فرماتے ہیں۔” میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچے دل سے پیروی کرنا اور آپ سے محبت رکھنا انجام کا رانسان کو خدا کا پیارا بنادیتا ہے۔اس طرح پر کہ خوداس کے دل میں محبت الہی کی ایک سوزش پیدا کر دیتا ہے تب ایسا شخص ہر ایک چیز سے دل برداشتہ ہو کر خدا کی طرف جھک جاتا ہے اور اس کا اُنس وشوق صرف خدا تعالیٰ سے باقی رہ جاتا ہے تب محبت الہی کی ایک خاص تجلی اس پر پڑتی ہے اور اس کو ایک پورا رنگ عشق اور محبت کا دے کر قومی جذبہ کے ساتھ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے تب جذبات نفسانیہ پر وہ غالب آ جاتا ہے۔(روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 67 ، حقیقۃ الوحی) پھر اس زمانہ کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کے مطابق ہم سب پر فرض ہے جیسا کہ بتا چکی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم اور عدل بنا کر بھیجا تھا۔قرآن کریم کی واقفیت ہونی چاہئے کہ ہماری ہر عورت اور ہر بچی کو اپنے دین سے پوری واقفیت ہو۔تمام مسائل کا ان کو پوری طرح علم ہونا چاہئے کیا جائز ہے کیا نا جائز ہے۔ہم کسی کی نقل کیوں کریں جب ایمانی حالت مضبوط نہیں ہوتی علمی حالت کمزور ہو جاتی ہے تو انسان دوسروں کی نقل کرتا ہے۔ہم کسی کی نقل کیوں کریں اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی توفیق ملی۔آپ کے ذریعے سے ہم نے زندہ خدا کی بجلی دیکھی ، زندہ رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سچا ایمان لانے اور آپ سے محبت کرنے کی توفیق ملی جو تعریف حضرت مسیح موعود علیہ السلام