خطابات مریم (جلد دوم) — Page 544
خطابات مریم 544 خطابات میں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آئے۔میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قومی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں کیونکہ ہر ایک قوم کی ایمانی حالتیں نہایت کمزور ہو گئی ہیں اور عالم آخرت صرف ایک افسانہ سمجھا جاتا ہے اور ہر ایک انسان اپنی عملی حالت سے بتا رہا ہے کہ وہ جیسا کہ یقین دنیا اور دنیا کی جاہ ومراتب پر رکھتا ہے اور جیسا کہ اس کو بھروسہ دنیوی اسباب پر ہے یہ یقین اور یہ بھروسہ ہرگز اس کو خدا تعالیٰ اور آخرت پر نہیں۔زبانوں پر بہت کچھ ہے مگر دلوں میں دنیا کی محبت کا غلبہ ہے۔حضرت مسیح نے اسی حالت میں یہود کو پایا تھا اور جیسا کہ ضعف ایمان کا خاصہ ہے یہود کی اخلاقی حالت بھی بہت خراب ہو گئی تھی اور خدا کی محبت ٹھنڈی ہوگئی تھی اب میرے زمانہ میں بھی یہی حالت ہے سو میں بھیجا گیا ہوں تا سچائی اور ایمان کا زمانہ پھر آوے اور دلوں میں تقویٰ پیدا ہو۔“ (روحانی خزائن جلد 13 - کتاب البریہ حاشیہ صفحہ 291 تا 293) ایک اور مقام پر آپ نے فرمایا ہے :۔وہ دینی سچائیاں جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہو گئی ہیں ان کو ظاہر کر دوں۔اور وہ روحانیت جو نفسانی تاریکیوں کے نیچے دب گئی ہے اس کا نمونہ دکھاؤں اور خدا کی طاقتیں جو انسان کے اندر داخل ہو کر توجہ یا دعا کے ذریعہ سے نمودار ہوتی ہیں حال کے ذریعہ سے نہ محض قال سے ان کی کیفیت بیان کروں اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید جو ہر ایک قسم کی شرک کی آمیزش سے خالی ہے جواب نابود ہو چکی ہے اس کا دوبارہ قوم میں دائمی پودا لگا دوں اور یہ سب کچھ میری قوت سے نہیں ہوگا بلکہ اس خدا کی طاقت سے ہو گا جو آسمان اور زمین کا خدا ہے۔66 (روحانی خزائن جلد 20 لیکچر لاہور صفحہ 180) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی بعثت کی جو غرض بتائی تھی سب دنیا نے وہ نشان دیکھا کہ خالص اور چمکتی ہوئی تو حید کا دائگی پودا آپ کے ذریعے لگایا گیا۔گناہ آلود زندگی سے ان لوگوں نے نجات پائی جنہوں نے مسیح موعود کو مانا اور آپ کی صحبت پائی۔آپ کی صحبت میں پاکیزہ زندگی اختیار کی اور وہ دنیا کیلئے نمونہ بنے پھر انہی صداقتوں کو قائم رکھنے کیلئے اللہ تعالیٰ