خطابات مریم (جلد دوم) — Page 536
خطابات مریم 536 خطابات کامیاب ہوئے۔اور جب انہوں نے قرآن کی تعلیمات کو بھلا دیا تو انھیں ذلت نصیب ہوئی۔احمدیت کی اصل غرض قرآن کی تعلیمات کو دنیا میں رائج کرنا ہے۔اس لیے صدی کا ایک دن ضائع کیے بغیر ہر جگہ یہ پیغام پہنچانا چاہیے کہ قرآن ہر جگہ ہر گاؤں اور ہر گھر میں پڑھا جائے۔آپ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ آجکل والدین اپنے ڈھائی سال کے بچہ کو دنیا کی تعلیم شروع کر وا دیتے ہیں۔لیکن قرآن کریم کی طرف توجہ نہیں دیتے پھر آپ نے قرآن کریم کا ترجمہ سکھنے کی تلقین فرمائی کیونکہ ترجمہ پڑھے بغیر ہمیں اوامر و نواہی کا علم نہیں ہوسکتا۔اس ضمن میں آپ نے مرکز کی تیار کردہ قرآن کریم کے ترجمہ کی ٹیسٹس سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی اب تک 10 سپاروں کی لیسٹس تیار ہو چکی ہیں۔اور 5 کی انشاء اللہ جلدی تیار ہو جائیں گی۔ماہوار رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہونا چاہیے کہ کتنی مہرات نے اس سے استفادہ کیا یا کر رہی ہیں۔فرمایا کہ گانے بجانے کی بجائے ان ٹیسٹس کی ایک رو چلائی جانی چاہیے۔تیسری چیز جس کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہوں وہ جہالت کا خاتمہ ہے۔بعض پڑھ لکھ کر بھی جاہل ہوتے ہیں۔یہاں میری مراد نا خواندگی سے ہے۔چالیس پینتالیس سال کی عورت بھی کوشش کرے تو پڑھنا لکھنا سیکھ سکتی ہے۔دیہات میں پچپیں تھیں سال کی عمر کی خواتین کی طرف بھی توجہ دی جائے کم از کم ان میں اتنا شعور پیدا کر دیا جائے کہ اگر وہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب نہ پڑھ سکیں تو کم از کم دوسروں سے سن کر ہی سمجھ سکیں۔پھر آپ نے بے پردگی کی رو سے اجتناب برتنے اور پردہ کو غلط طور پر پیش کرنے کی ممانعت فرمائی۔قرآن اور احادیث نبویہ کی روشنی میں اس کی اہمیت واضح فرمائی۔شادی بیاہ کے مواقع پر مردوں اور بیروں کو کام پر لگانے کی بجائے خواتین کے حصہ میں بچیوں کو خود کام کرنے کی نصیحت فرمائی۔خطاب جاری رکھتے ہوئے آپ نے تعمیر ہال کے چندہ کی ادائیگی اور ضلعی صدران کو سو فیصد تجنید مکمل کرنے کی طرف توجہ دلائی نیز آپ نے فرمایا کہ آئندہ عہد یداران جنوری کے مہینہ میں بھجوا دیا کریں۔( تجاویز سوچ کر اور بغیر مرکز کے تقاضا کے ) شوری کیلئے نمائندگان کے نام بھی تجویز کر کے بھجوا دئیے جائیں۔جو پورا وقت دے سکتی ہوں کیونکہ اس سلسلہ میں مرکز