خطابات مریم (جلد دوم) — Page 535
خطابات مریم 535 خطابات مجلس مشاورت عہدیداران پاکستان 2 /اپریل 1989ء تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آپ نے فرمایا کہ نئی صدی کا پہلا اجلاس ہے آپ سب اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ دن دکھایا ہے آپ کا فرض ہے کہ اپنے نفس کا جائزہ لیں اور جو عہد بیعت آپ نے کیا تھا آپ پورا کر رہی ہیں یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاء سے ہمیں اس بات کا علم ہوا ہے۔کہ آئندہ صدی غلبہ اسلام کی صدی ہو گی۔میں ہر احمدی عورت اور عہدہ دار کو بتانا چاہتی ہوں کہ صرف ظاہری طور پر جشن منا کر ہی نہیں بیٹھ جانا بلکہ ہمیں اپنی تمام سستیوں اور غفلتوں کو اس صدی میں چھوڑ نا ہوگا۔فرمایا کہ جب سے میں صدر کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں ایک مسلسل شکایت مجھے اجلاسوں میں حاضر نہ ہونے کی ملتی ہے۔عہدیداران کوشش کریں کہ شروع صدی میں ہی اس خامی پر قابو پالیا جائے۔اجلاس کی اہمیت سب پر واضح کی جائے کہ مال جان اور وقت کو قربان کرنے کا عہد کس حد تک پورا کیا جا رہا ہے۔وقت کی قربانی تو سب سے کم قربانی ہے اس لیے اس طرف بہت توجہ دیں۔دوسری بات جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتی ہوں۔وہ آپس میں مل جل کر محبت سے کام کرنے کی ہے۔عہدیداران سخت رویہ اپنانے کی بجائے نرمی اور محبت سے کام لیں۔ممبرات کو الزام دینے کی بجائے پہلے اپنے نفس کی اصلاح کریں۔پھر آپ نے قرآن کریم پڑھنے کی بہت تاکید فرمائی نیز فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کی بعثت کی غرض بھی یہی تھی کہ آپ قرآن کی تعلیم لوگوں کو دیں۔آپ کو الہاماً فرمایا گیا تھا کہ "يُحْيِ الدَيْنَ وَيُقِيمُ الشَّرِيعَةَ “ (تذكره: 55) سواس یا درکھیں۔۔،، اسلامی تاریخ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن کریم پر عمل رکھا وہ